اسرائیل:اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں زور دار راکٹ حملہ کر کے ایک ہی بار 12 اسرائیلی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے اب تک کے اس انتہائی تباہ کن حملے کا الزام لبنان کی ایرانی حمایت حزب اللہ پر عاید کیا گیا ہے۔ جبکہ حزب اللہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ اسرائیل اس حملے کے بعد زیادہ شدید حملے کر کے لبنان میں تباہی کر سکتا ہے۔
واضح رہے اسرائیل پر یہ ان معنوں ببد ترین حملہ ہے۔ جس کے نتیجے میں بیک وقت اتنا بڑا جانی نقصان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ راکٹ حملہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں کے علاقے کیا گیا ہے۔
ہفتے کے روز کیے گئے اس راکٹ حملے کے سبب فٹ بال گراؤنڈ میں موجود بچوں سمیت کل 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ گراؤنڈ میں موجود تقریباً ہر چیز آگ بھڑکنے سے بھسم ہو گئی ہے۔
اسرائیل کے ہنگامی امداد سے متعلق طبی شعبے کا کہنا ہے کہ لبنانی سرحد کی جانب سے داغے گئے راکٹوں سےدروز نامی گاؤں متاثر ہوا ہے۔ گاؤں مجدل شمس کے علاقے میں واقع ہے۔
طبی سروس کے مطابق سروس نے ابتدائی طور پر رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم نو افراد اس راکٹ حملے سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حملے میں فٹ بال گراؤنڈ میں موجود افراد نشانے پر تھے۔ طبی سروس سے وابستہ ایک ڈاکٹر کے مطابق ‘فٹ بال گراؤنڈ میں ہر طرف آگ لگئی تھی اور ‘جب ہم راکٹ حملے کے بعد فٹ بال گراؤنڈ میں پہنچے تو ہم نے بڑی تباہی دیکھی،آگ لگی ہوئی تھی یہ ایک خوفناک صورت حال تھی۔’
موقع پر عینی شاہد نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ رائٹرز کو بتایا’ یہ فٹ بال گراؤنڈ میں یہ سب بچے تھے۔ ان میں سے بہت سے لاشیں اور باقیات ہیں۔ مگر ہم نہیں جانتے یہ کون تھے، کون ہیں، ہمیں ان کے نام بھی معلوم نہیں ہیں۔
ایران:لبنانی حزب اللہ کی جانب سے ہفتہ کے روز گولان کے گاؤں مجدل شمس میں راکٹوں سے حملہ کرکے 10 اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے پر اسرائیل کے سخت جواب کی دھمکیوں کے بعد ایران نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کو لبنان میں کسی بھی نئے خطرے سے خبردار کرتا ہے۔ ایران اسرائیل کو لبنان میں کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتا ہے اور اس کے "غیر متوقع نتائج” سامنے آسکتے ہیں۔
ناصر کنعانی نے مزید کہا کہ اسرائیلی جہالت کی عکاسی کرنے والا کوئی بھی قدم خطے میں عدم استحکام، عدم تحفظ اور جنگ کو بڑھا سکتا ہے۔ اسرائیل اس طرح کے احمقانہ رویے کے غیر متوقع نتائج اور رد عمل کا بھی ذمہ دار ہوگا۔
یہ انتباہ گولان کی پہاڑیوں کے واقعے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جہاں اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ ہفتہ کو فٹ بال میدان میں راکٹ حملے سے بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری ایرانی اتحادی لبنانی حزب اللہ پر عائد کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ حزب اللہ نے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میزائل "ایرانی ساختہ” تھا۔ فوج نے قصبے میں فٹ بال کے میدان کو نشانہ بنانے والے میزائل کی شناخت ماڈل کے "ایرانی ساختہ” کے طور پر کی ہے۔ یہ ایسا میزائل ہے جس میں 50 کلو گرام دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے۔
واضح رہے ہفتے کے روز ہی لبنان میں کیے گئے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں چار لبنانی ہوئے، جنہیں اسرائیلی فوج نے عسکری پسند قرار دیا ہے۔ لبنانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے علاقے کفرکیلا پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے چاروں افراد مسلح گروپوں وابستہ تھے ان میں کم از کم ایک کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔












