مراکش:مراکش میں 13 سالہ امین اخباش نے 2011 میں تافزہ نامی گاؤں میں آنکھ کھولی۔ یہ گاؤں ملک کے جنوب میں اوریکہ کے علاقے کے نزدیک واقع ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے اس بچے کی صلاحیت اور ذہانت جاننے کے لیے خصوصی ملاقات کی۔کچھ عرصہ قبل امین کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اس نے اپنا ایجاد کردہ ایک آلہ دکھایا تھا جو زلزلے کی لہروں کا پتا چلا سکتا ہے۔ امین کی اس ایجاد کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذایرائی ملی تھی۔اب اپنی نئی وڈیو میں امین نے شیمپو کی بوتل سے تیار کیا گیا ہیلی کاپٹر متعارف کرایا ہے۔ چار ناکام کوششوں کے بعد آخرکار اس کا ننھا ہیلی کاپٹر پرواز میں کامیاب ہو گیا۔العربیہ کی ٹیم امین کے گھر پہنچی تو اسے شرمیلے چہرے کے ساتھ امازیغی لہجے میں بات کرتے ہوئے پایا۔ امین نے بتایا کہ وہ اپنے سامنے آنے والے ہر کچرے کی چیز کو ایجاد میں تبدیل کرنے کا سوچتا ہے۔ کبھی یہ خیال اچانک اس کے دماغ میں آتا ہے، کبھی وہ اسے کسی کارٹون منظر یا کمپیوٹر یا موبائل گیم میں دیکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اسے ایک اختراع اور تخلیق میں بدل دیتا ہے جسے امین کا باپ اپنے سوشل میڈیا پیج پر پوسٹ کر دیتا ہے۔امین کو اپنے اسکول اور پورے گاؤں میں وسیع شہرت حاصل ہے۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ کافی وقت گزارتا ہے اور باپ کے ورکشاپ میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ ایک بار امین کا باپ اس وقت حیران رہ گیا جب اس کے ہونہار بیٹے نے بچی ہوئی لکڑیوں کو گیس میں تبدیل کر دیا جس سے اس جگہ آگ لگ سکتی تھی۔امین کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے والد نے کبھی اپنے بیٹے پر پابندیاں نہیں لگائیں بلکہ اس کی خدا داد صلاحیتوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اس نے اپنے بیٹے کو بھرپور مادی اور نفسیاتی سپورٹ فراہم کی تا کہ وہ اپنے خواب پورے کر سکے۔ وہ امین کا باپ اور دوست ہے اور اس کی ہر ایجاد پر پورا اعتماد اور یقین رکھتا ہے۔امین کے پاس بہت ساری ایجادات ہیں۔ ان کا آغاز زلزلے کا پتا لگانے والے آلے سے ہوا، پھر اس نے اپنے والد کے ورکشاپ میں پھیلی لکڑی کی باقیات کو گیس میں تبدیل کیا۔ اسی طرح خراب ہو جانے والی لائٹوں کو دوبارہ چلایا، ایک شمسی توانائی سے چلنے والی کھلونا گاڑی بنائی اور آخرکار اب ایک ہیلی کاپٹر بنایا دیا۔ امین کا جذبہ اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے گھنٹوں تک کوششیں کرنا، یہ کامیابی سے زیادہ ناکامیوں کے دوران کیے جانے والے تجربات کا مزہ ہے۔











