اسرائیل میں آج پیر کے روز سیکورٹی کابینہ کا اجلاس ہو رہا ہے۔ ادھر تل ابیب نے غزہ مین فائر بندی معاہدے کے حوالے سے بات چیت کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو قاہرہ بھیجا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تل ابیب میں اسرائیلی حکام کے ساتھ بات چیت کی تھی۔
روبیو آج سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد زور دیا کہ "حماس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ عسکری یا حکومتی قوت کی صورت میں باقی رہے … اس کا خاتمہ ہونا چاہیے”۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے حماس تنظیم پر جہنم کے دروازے کھول دینے” کی دھمکی دی ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ حماس کی حمایت کرنے والے ایران کے حوالے سے "مشن” مکمل کر لیا جائے گا۔
غزہ کی پٹی میں 15 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کے بعد 19 جنوری کو فائر بندی معاہدے کا نفاذ ہوا۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔
کچھ روز قبل حالیہ جنگ بندی اس وقت ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی جب حماس نے یرغمالیوں کی رہائی معطل کرنے اور اسرائیل نے دوبارہ سے جنگ شرع کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس دوران میں فریقین کے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے۔ تاہم قطری اور مصری وساطت کاروں کی کوششوں سے حماس نے ہفتے کے روز مقررہ تین یرغمالیوں کو رہا کر دیا جس کے بعد اسرائیل نے 369 فلسیطنی گرفتار شدگان کو آزاد کیا۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران میں 251 افراد کو اغوا کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 70 یرغمالی غزہ میں ہیں جن میں سے 35 مر چکے ہیں۔
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا۔ اس دوران میں اب تک 19 اسرائیلی یرغمالی اور 1134 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا جا چکا ہے۔
تحریک حماس کے سربراہ حازم قاسم نے العربیہ اور الحدث چینلز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ کی حکمرانی نہیں لیں گے اگر یہ ہمارے عوام کے مفاد میں ہے۔ حماس کے رہنما نے تین مراحل میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تحریک کی وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ معاہدے کے خلاف ٹرمپ کے بیانات اس لیے حیران کن ہیں کہ ان کی ٹیم مذاکرات میں شریک تھی۔
حازم قاسم نے کہا کہ نیتن یاہو غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع ہو جانا چاہیے تھے اور ثالثوں کو نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اسرائیل اور حماس دونوں کی طرف سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے چھٹے بیچ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اگلے ہفتے کے اوائل میں دوسرے مرحلے پر بات چیت کے آغاز کی توقع کی جارہی ہے۔












