فلسطين: اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کو فوجی طاقت سے اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بات فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد نے اسرائیلی فوج کی طرف سے مغربی کنارے میں ٹینکوں کی حالیہ تعیناتی کے بعد کہی ںے۔
واضح رہے اسرائیل نے فوج کے آرمڈ کور کی مقبوضہ مغربی کنارے میں ٹینکوں کی تعیناتی کئی دہائیوں کے بعد کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے اتوار کے روز یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں فوج ابھی کئی ماہ تک جنگی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اسرائیلی فوج کی ان علاقوں میں جاری جنگی کارروائیوں کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جبکہ وزیر دفاع کاٹز نے اسرائیلی فوج کو اس مقبوضہ علاقے میں کارروائیوں میں مزید شدت و حدت لانے کا حکم دے دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ان جنگی کارروائیوں میں مصروف اسرائیلی فوج کی موقع پر آکر ہمت بندھانے کی کوشش کی ہے۔اس صورت حال میں اسرائیلی فوج نے جنین کے علاقے میں بھی ٹینک بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ جنگی کارروائیوں کو وسعت دے سکے۔ 2005 میں دوسرے فلسطینی انتفاضہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مغربی کنارے میں ٹینک بھیجے گئے ہیں۔ اب تک جنین، نورشمس اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں کو ٹینکوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے ان جنگی کارروائیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے نور شمس اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں سے فلسطینی انخلا کرا لیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ کارروائی پچھلے ماہ شروع کی گئی تھی۔ فوج کی اس علاقے میں لمبے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اسلامی جہاد کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی کیمپوں میں اسرائیلی ٹینکوں سے حملے کرنے کا مطلب ان کیمپوں کو جبری طور پر خالی کرانا اور فوجی قبضہ کرنا ہے۔ تاکہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ جبری الحاق کرنے کی راہ ہموار کر لے۔ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش ہے جسے فلسطینی قبول نہیں کرتے۔












