
ارریہ، ( مشتاق احمد صدیقی ) ضلع ارریہ کی معروف اور علمی بستی چلہنیاں کی پرانی جامع مسجد میں واقع "معہد القرآن” میں گزشتہ دنوں دو روزہ انعامی مسابقہ و جلسۂ دستار بندی و اصلاح معاشرہ کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت مفتی محمد اطہر القاسمی نائب صدر جمیعت علماء بہار نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کو ادارہ کے روحِ رواں مولانا قاری رحمت اللہ قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دیا، اس جلسۂ دستار بندی میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے نائب امیر شریعت امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی شریکِ اجلاس ہوئے جبکہ مولانا قاضی وصی احمد نائب قاضی امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور دیگر علماء کرام کی تشریف آوری ہوئی اور سبھوں نے جلسہ کو خطاب کیا۔ مہمان خصوصی مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمیں دین اسلام سے وابستہ کیا ہے، ایمان والا بنایا ہے ،یہ ہم سب کے لیے بہت ہی فخر کی بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ دین کی حفاظت کے مضبوط قلعے ہیں، ان کو چلانے کی اور ان کی انتظامات کرنے کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے ،اس لئے ہمیں ان اداروں کا بھرپور تعاون کرتے رہنا چاہیے اور اہل مدارس اور علماء کرام سے اپنے آپ کو جوڑے رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اتنی عظمت والی کتاب ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اور تلاوت کی وجہ سے دعا کا موقع نہیں ملا تو اللہ تعالی اس کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ نائب قاضی امارت شرعیہ قاضی وصی احمد قاسمی نے حفظ قرآن کی فضیلت پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کریم کا پڑھنا اس کو یاد کرنا بڑی سعادت مندی کی بات ہے، ان مدارس اسلامیہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے اور انسانیت کا درس دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر صدرِ اجلاس مفتی محمد اطہر القاسمی نائب صدر جمعیت علماء بہار نے زور دے کر کہا کہ اگر معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنا ہے تو نسلوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنا ہوگا اور اس کے نظام مکاتب کو منظم و معیاری بنانا ہوگا انہوں نے معہد سے دینی تعلیم وتربیت حاصل کرنے والی بچیوں کے حوالے سے کہاکہ بیٹی دیندار ہوگی تو بہن اور بہن دیندار ہوگی تو بیوی اور بیوی دیندار ہوگی تو ماں اور جب ماں دیندار ہوگی تو آنے والی نسلیں بھی دیندار ہوں گی۔ان کے علاوہ شہر قاضی ارریہ قاضی عتیق اللہ رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مسئلے کو دارالقضاء سے جوڑیں تاکہ کورٹ کچہری کے چکر سے محفوظ رہ سکیں ۔مولانا جرجیس اکرم قاسمی قاضی شریعت بیگو سرائے نے حفظ قرآن کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہاکہ ایک حافظ قرآن کل قیامت میں دس ایسے آدمی کو جنت میں لے کر جائے گا جس کے جہنم میں جانے کا فیصلہ ہو چکا ہوگا۔ اس پروگرام کی سرپرستی فرما رہے مولانا مفتی احتشام اختر ندوی ناظم جامعہ دار السلام لکھنو ومولانا ناہید حسن ندوی پروفیسر مانو دربھنگہ نے مشترکہ طور پر کہا یہ ہمارے گاؤں کے لیے باعث فخر ہے کہ دو بچیاں حافظہ ہوئی ہیں۔ اس پروگرام میں علماءکرام و عوام الناس کی کثیر تعداد کے ساتھ مولانا جنید اکرم ندوی، مولانا عبد السبحان قاسمی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا مفتی عقیل انور مظاہری، مولانا آصف لئیق ندوی عربی لیکچرار مانو حیدرآباد، حافظ تنزیل، ڈاکٹر محمد اوصاف، فیروز عالم، نقی انور، حفظ الرحمن، ایڈوکیٹ عدنان، مرتضی عالم، ماسٹر محمد مصدق، ماسٹر محمد اظہر، ڈاکٹر مقیم انور، حاجی ایوب، ماسٹر شمائل رضا، حافظ محمد سلمان، حافظ محمد شاہ زماں وغیرہ موجود تھے۔ آخر میں معہد القرآن کے روح رواں مولانا رحمت اللہ قاسمی نے تمام مہمانوں اور سامعین و سامعات کا شکریہ ادا کیا۔











