
حاجی پور/جنداہا(محمد آصف عطا) ضلع کے جنداہا بلاک علاقہ کے بیدولیا گاؤں واقع قدیم ترین قبرستان میں بنے قبر کو شرپسندوں نے گزرے شب میں توڑ پھوڑ کر ماحول بگاڑنے کی کوشش کی۔جس کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے صبر کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ کو اطلاع کر حالات پرامن کیا۔اس کی اطلاع ملتے ہی جنداہا تھانہ کے تھانہ صدر پولیس عملہ کے ساتھ موقع پر پہنچ کر مورچہ سنبھال لیا اور بڑی سنجیدگی سے ماحول کو پر امن کیا۔وہیں مہوا ڈی ایس پی نے بھی اطلاع پاکر موقع پر پہنچ کر امن بحال کرایا۔اس بارے میں ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بیدولیا قبرستان میں کچھ شرپسندوں کے ذریعے گزرے سنیچر کی شب کو عبدالغفور مرحوم ولد لال محمد مرحوم باشندہ بیدولیا اور محمد یونس مرحوم ولد عبدالغفور مرحوم باشندہ بیدولیا کا قبر جو پورے طور پر چہار جانب سے اینٹ سے گھرا تھا کو پورے طور پر توڑ پھوڑ کر دیا اور کچھ اور قبر کو بھی مسمار کر قبرستان کی شناخت مٹانے کی کوشش کر یہاں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی ناپاک سازش کی۔حالانکہ اس کی خبر جیسے ہی یہاں کے مسلمانوں کو ملی تو مسلمانوں نے سب سے پہلے خود کو صبر کے ساتھ سنبھال کر مقامی تھانے کو اطلاع دی۔جبکہ یہاں کے کچھ جی ہوش لوگوں نے بھی آگے بڑھ کر ماحول کو خراب ہونے سے بچا لیا جو قابل ستائش ہے۔وہیں یہاں کے مسلمانوں نے تحریری طور پر جنداہا تھانہ کو جو شکایت درج کرائی ہے اس میں بتایا ہے کہ یہاں کے کچھ لوگ زبردستی اس قبرستان کو سرکاری بتا کر اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے گمٹی رکھ دیا تھا۔جس کو ہٹانے کے لئے تھانہ کو اطلاع دیا گیا تو تھانہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے گمٹی کو ہٹوایا۔جس کے بعد اس معاملے کو مہوا سب ڈویژنل آفیسر کے پاس بھیج دیا گیا جہاں سنوائ کے بعد مہوا سب ڈویژنل آفیسر نے اپنی سطح سے متنازعہ قبرستان کی زمین کا حد بندی کیا تو کچھ حصہ مسلمانوں کا نجی اور کچھ حصہ سرکاری غیر مجروعہ نکلا۔جس کو فوری طور پر سب ڈویژنل آفیسر مہوا نے سرکاری مد سے نجی حصہ کا گھیرا بندی کرا دیا اور سرکاری غیر مجروعہ زمین کو خالی چھوڑتے ہوئے اگرم فیصلہ کے لئے وچارادھین رکھ لیا جہاں ہم مسلمانوں کے آبا و اجداد کے قبر،مزارات ہیں۔جس کو لیکر ہم لوگ عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا جہاں معاملے کا آئندہ کارروائی شروع ہے۔اسی درمیان شرپسندوں نے گزرے شب کو قبر توڑ پھوڑ کر ماحول بگاڑنے کی کوشش کی۔اس معاملے میں بیدولیا گاؤں باشندہ محمد سعیم،محمد شمسل،محمد حدیث،محمد بشیر وغیرہ سمیت دیگر مسلمانوں نے جنداہا تھانہ کو تحریری طور پر شکایت درج کر معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر شرپسندوں کی نشاندہی کر کارروائی کرنے کی گزارش کی ہے۔وہیں ماحول پر امن ہے۔











