بیجنگ (ہ س)۔چین کی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی وصولی روک دینے کی وجہ، امریکہ کی عائد کردہ اضافی کسٹم ڈیوٹی ہے۔وزارت کے ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ اضافی ڈیوٹیاں ’عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام کو شدید خطرے میں ڈال چکی ہیں، جس سے بین الاقوامی ہوائی نقل و حمل کی مارکیٹ میں خلل پیدا ہوا ہے اور متعدد کمپنیوں کے لیے معمول کے مطابق کام کرنا مشکل ہو گیا ہے‘۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ جمعرات یہ کہہ چکے ہیں کہ بوئنگ کمپنی کو چین کے ساتھ اپنے معاہدوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے”، اس لیے کہ بیجنگ نے وہ طیارے وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے جو اس نے کمپنی سے خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "یہ اس بات کی چھوٹی سی مثال ہے کہ چین نے کئی برسوں سے امریکہ کے ساتھ کیا کیا ہے۔بوئنگ اب ان درجنوں طیاروں کو دوبارہ فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہیں چین میں داخل نہیں کیا جا سکا، اور جن میں سے ایک تیسرا طیارہ حال ہی میں واپس امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔بوئنگ کے چیف ایگزیکٹیو افسر، کیلی آرتھبرگ، نے گذشتہ بدھ کو کہا تھا کہ چینی صارفین نے طیارے وصول کرنا اس وجہ سے بند کر دیے ہیں کہ ’کسٹم ڈیوٹیوں کی موجودہ صورتِ حال نے ماحول ہی ایسا پیدا کر دیا ہے‘۔واضح رہے کہ جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد، امریکہ نے چین کی بہت سی مصنوعات پر 145 فی صد تک اضافی کسٹم ڈیوٹیاں عائد کی ہیں۔یہ ڈیوٹیاں ابتدا میں چین کے مبینہ کردار کی بنیاد پر فینٹانائل کی سپلائی چین میں لگائی گئیں، اور بعد میں ان چینی کاروباری رویّوں کے خلاف مزید سختی کی گئی جنہیں واشنگٹن غیر منصفانہ سمجھتا ہے۔جواباً بیجنگ نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فی صد ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔












