دمشق(ہ س)۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز شام کے دارالحکومت دمشق میں ایوان صدر کے نزدیکی علاقے کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔دارالحکومت دمشق میں بمباری کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر دفاع نے شام کی حکومت کو دھمکاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت دروز کے قبائل کو تحفظ دینے میں ناکام رہی تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔وزیر دفاع کاٹز نے شام کی فورسز کو انتہا پسندانہ تصور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ دروز اقلیت کو تحفظ دیں۔ بصورت دیگر ان کا ملک اس پر اپنا ردعمل دے گا۔دروز قبیلے کے روحانی سربراہ نے 102 دروز افراد کی ہلاکت کے واقعات کو دروز قبائل کی نسل کشی کی مہم قرار دیا ہے۔شامی دروز قبیلے کے روحانی رہنما شیخ حکمت الہجری پرتشدد واقعات کو دروز قبائل کے خلاف نسل کشی کی غیر منصفانہ مہم کا نام دے چکے ہیں۔ دو زخمی ہونے والے دروز افراد کو شمالی اسرائیل میں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں دروز قبائل کو امن فراہم کرنے میں مدد کریں۔یاد رہے حال میں ہی میں دروز قبائل کا اعلیٰ سطح کا وفد اسرائیل کے دورے سے ہو کر آیا ہے۔اسرائیل جو پچھلے ڈیڑھ سال سے غزہ میں جنگ میں مصروف رہتے ہوئے 52 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر کے علمی سطح پر نسل کشی کے الزام کا سزاوار بنا ہوا ہے، غزہ کے علاوہ اپنے آس پاس دیگر علاقوں میں بھی تسلسل کے ساتھ آزادہ نشانہ بازی اور بمباری کا مرتکب ہو رہا ہے۔لبنان و شام اس بمباری کے تسلسل میں اس کے خصوصی اہداف ہیں اور اسرائیل اس صورتحال میں یہ سمجھتا ہے کہ خطے میں اسے چیلنج کرنے والی کوئی قوت اب باقی نہیں رہی ہے۔دوسری جانب شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مستقل استحکام کے لیے ٹھوس بنیادوں پر نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ‘امن کی خواہش کے نام پر بیرونی قوتوں کو مداخلت کے لیے بلانا وطن عزیز میں مزید تباہی ، تقسیم اور خرابی کا ذریعہ بنے گا۔ جب سے شام میں احمد الشراع کی ‘ھیتہ التحریر الشام’ نے اقتدار سنبھالا ہے اسے بھی اسرائیلی بمباری اور جارحانہ حملوں کا سامنا ہے۔جمعہ کے روز اسرائیل کے جیٹ طیاروں نے دارالحکومت دمشق میں صدارتی محل کے نزدیک تر بمباری کی۔دمشق میں کی گئی بمباری کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے شامی علاقے میں قائم کردہ فوجی بفر زون میں مزید فوجیوں کو بھیج رکھا ہے۔شام کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ شامی حکومت اپنے ملک کے تمام مکاتب کا یکساں تحفظ کرنے پر یقین رکھتی ہے اور شام کے معاشرے میں موجود دروز قبائل کا تحفظ بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔












