پیرس(ہ س)۔فرانس کے صدر میکروں نے جمعرات کے روز فرانس کی طرف سے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کر لینے کی رواں سال سے شروع ہونے والی خبروں اور بیانات کے بارے میں باضابطہ کہا ہے کہ ان کا ملک ماہ ستبر کے دوران فلسطین کو تسلیم کرلے گا۔ ان کے اس اعلان کے مطابق یہ اہم موقع اقوام متحدہ کے ماہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران آئے گا جب باضابطہ تسلیم کر لیا جائے گا۔صدر میکروں نے کہا اس بارے میں وہ خود جنرل اسمبلی میں اعلان کریں گے۔ انہوں نے اس بارے میں سوشل میڈیا ‘ ایکس ‘ اور ‘ انسٹا گرام’ پر لکھا مشرق وسطی کے امن کے لیے اپنی تاریخی اور سچی کمٹمنٹ کو پورا کرنے کے لیے میں خود اعلان کروں گا۔امریکہ کی طرف سے فرانس کیاس اعلان کی سخت مخالفت کے باوجود فرانس یہ فیصلہ کرنے جارہا ہے۔واضح رہے فرانس کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے بعد ان ملکوں کی تعداد 142 ہو جائے گی۔ یورپی ملکوں سے فرانس کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطلب یورپی یونین کی رکن بڑی یورپی طاقت کا اعلان بڑا اہم اور دور رس ہوگا۔فرانس کے صدر نے ‘ ایکس ‘ پر لکھا ہے ان کا ملک سمجھتا ہے کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح غزہ میں جنگ بند کر کے وہاں سے سویلین آبادی کو ریسکیو کرنا ہے۔ اس کے بعد لازم ہوگا کہ فلسطینی ریاست کی تعمیر و ترقی کو شروع کیا جانا ہوگا تاہم اس کے لیے فلسطینیوں کو عسکریت کو چھوڑنا اور اسرائیل کو پوری طرح تسلیم کر کے پورے مشرق وسطی کی سلامتی کو ممکن بنانا ہو گا۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے نائب حسین الشیخ نے فرانسیںسی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں نے کہا فرانس کے صدر کا یہ تازہ اظہار ان کی بین الاقوامی قانون ، فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ ان کی گہری کمٹمنٹ ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا فرانس کا یہ فیصلہ دہشت گردوں کو انعام دینے کے مترادف ہے۔فرانس کی طرف سے یہ ایران کے لیے خطے میں ایک اور پراکسی ریاست قائم کرنے کی کوشش ہے۔ جیسا کہ غزہ ایرانی پراکسی بن گئی تھی۔ کہ ایران کی طرف سے اسرائیلی تباہی کے لیے یہ ایک لانچنگ پیڈ بن گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا ایک چیز واضح رہنی چاہیے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی آزاد ریاست نہیں چاہتے بلکہ اسرائیل کی جگہ پر اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔اسرائیل کے نائب وزیر اعظم یریف لیون نے بھی فرانس کی اس پیش رفت کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ فرانس کی تاریخ پر ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ دھبہ بن جائے گا۔












