عالمی سیاست میں بیانات اکثر ناپ تول کر دیے جاتے ہیں، مگر کبھی کبھی کوئی جملہ ایسا بھی آ جاتا ہے جو سفارت کاری کے سارے پردے چاک کر دیتا ہے۔ ٹرمپ کا بھارت کو “دوزخ” قرار دینا ایسا ہی ایک جملہ ہے،مختصر، سخت، اور سیدھا نشانے پر۔یہ وہی بھارت ہے جسے نریندر مودی “وشو گرو” بنانے کے خواب بیچتے نہیں تھکتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھارت واقعی “وشو گرو” بن رہا ہے تو پھر اس کے سب سے قریبی دوست کو اس میں دوزخ کیوں نظر آ رہا ہے؟ اور جب بھارت دوزخ ہے تو پھر اس کے سربراہ کو دوزخ کے داروغہ کے سوا اور کیا کہینگے ؟یا تو ٹرمپ حقیقت بول گئے، یا پھر مودی کا بیانیہ محض ایک خوبصورت اشتہار ہے،جس کی چمک قریب سے دیکھنے پر اتر جاتی ہے۔مودی کی خارجہ پالیسی کو کبھی “جارحانہ سفارت کاری” کا نام دیا گیا، مگر آج یہ زیادہ تر “جارحانہ کنفیوژن” لگتی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ بے مثال قربت، دوسری طرف کے ساتھ کھلے عام اتحاد، اور تیسری طرف اپنے پرانے دوست ایران سے دوری ۔یہ سب کچھ کسی شطرنج کی چال نہیں بلکہ ایک ایسے کھلاڑی کی حرکتیں لگتی ہیں جو خود ہی اپنے مہرے گرا رہا ہو۔طنز کی انتہا دیکھیے کہ جس امریکہ کے ساتھ دوستی کے پل باندھے جا رہے تھے، وہی امریکہ کا سابق و متنازعہ صدر آج اس دوستی کا جنازہ نکالتا نظر آ رہا ہے۔ اگر دوست ایسے ہوں تو دشمنوں کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟بھارت کے اندرونی حالات بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں جو کل تک بکھری ہوئی تھیں، آج اس ایک نکتے پر متفق نظر آتی ہیں کہ مودی کی پالیسیاں ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ یہ وہی بھارت ہے جو کبھی “نان الائنڈ” ہونے پر فخر کرتا تھا، مگر آج ایک خاص کیمپ میں کھڑا ہو کر اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگا چکا ہے۔اور سب سے بڑا سوال کہ کیا واقعی ٹرمپ کا بیان محض ایک بے تکی بات ہے؟ یا یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے مگر بھارت ماننے کو تیار نہیں؟ کیونکہ جب معیشت دباؤ میں ہو، سماجی ہم آہنگی سوالوں کے گھیرے میں ہو، اور خارجہ پالیسی تضادات کا شکار ہوتو “وشو گرو” کا خواب کہیں “سیاسی نعرہ” بن کر تو نہیں رہ جاتا؟یہ کالم کسی ایک بیان پر نہیں، بلکہ اس سوچ پر سوال ہے جو نعروں کو حقیقت سمجھ بیٹھتی ہے۔ اگر بھارت کو واقعی عالمی قیادت کرنی ہے تو اسے پہلے اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ورنہ آج ٹرمپ نے کہا ہے، کل کوئی اور کہے گا اور ہر بار سچ تھوڑا اور واضح ہوتا جائے گا۔آخر میں صرف اتنا کہ دوستی اگر عزت نہ دلا سکے تو کم از کم ذلت کا سبب بھی نہیں بننی چاہیے۔ مگر یہاں تو معاملہ الٹا ہو چکا ہے ۔دوستی بھی ہے، اور تضحیک بھی۔












