غزہ:فلسطینی اراضی میں غزہ کی پٹی میں خوراک کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں غزہ کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ دوائیں اور دیگر طبی سامان لے کر آنے والی ہنگامی امدادی ٹرکوں کی ایک کھیپ جلد غزہ پہنچے گی۔ یہ سامان عالمی ادارہ صحت کے ذریعے اسپتالوں میں تقسیم کیا جائے گا۔وزارت نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ ٹرک کسی بھی قسم کی غذائی اشیاء پر مشتمل نہیں ہوں گے۔بیان میں شہریوں، عمائدین، خاندانوں اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان ٹرکوں کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں، تاکہ انھیں کسی رکاوٹ یا حملے کے بغیر محفوظ طریقے سے اسپتالوں تک پہنچایا جا سکے اور مریضوں و زخمیوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔وزارت کا کہنا ہے کہ متوقع امدادی سامان انتہائی اہم اور فوری ضرورت کا حامل ہے، تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔یہ اپیل ایسے وقت کی گئی ہے جب حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امدادی ٹرک جب کرم ابو سالم کے راستے غزہ میں داخل ہوئے تو انھیں لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب غزہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور اسرائیلی محاصرے کے باعث قحط کا سایہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔یہ صورتحال ان فضائی کارروائیوں کے بعد پیدا ہوئی جن کے تحت حالیہ دنوں میں غزہ میں خوراک گرائی گئی۔جمعے کے روز اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک اعلان میں بتایا کہ 126 امدادی پیکٹ غزہ میں فضائی طور پر گرائے گئے۔ یہ کارروائی جرمنی، اسپین، فرانس، اردن، مصر اور متحدہ عرب امارات کی شراکت سے کی گئی۔تاہم اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے فضائی امداد کو مہنگا اور خطرناک قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ فضائی امداد کی لاگت زمینی راستے سے ترسیل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ ہے، جبکہ زمینی راستے سے کہیں زیادہ مقدار میں سامان منتقل کیا جا سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امدادی سامان گرنے کے دوران زمین پر موجود افراد زخمی ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔












