تہران:ایران نے اتوار کے روز ایک نئی قومی دفاعی کونسل کے قیام کا اعلان کیا جسے مرکزی طور پر دفاعی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے اور ملک کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ریاستی میڈیا نے اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ نئی کونسل "دفاعی منصوبوں کا جائزہ لے گی اور مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مرکزی انداز میں بہتر کرے گی۔
اس کونسل کی صدارت صدر مسعود پیزشکیان کریں گے اور اس میں ایران کی حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت کو مجتمع کیا جائے گا۔ اس کے ارکان میں پارلیمنٹ کے سپیکر، عدلیہ کے سربراہ، مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈرز اور متعلقہ وزارتوں کے منتخب وزراء شامل ہوں گے۔
ملک کے آئین کے آرٹیکل 176 کے تحت ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے قومی سلامتی کونسل نے اس کے قیام کی منظوری دی تھی۔اس سے قبل اتوار کو ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا تھا، اسرائیل کی جانب سے خطرات بدستور سنگین ہیں۔سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق حاتمی نے کہا، ایک فیصد خطرے کو 100 فیصد سمجھا جانا چاہیے۔ ہمیں دشمن کو کم اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی طرف سے خطرات ختم ہو گئے۔ ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت "قائم ہے اور آپریشن کے لیے تیار ہے۔”گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا تھا کہ خطرے کی صورت میں ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔












