دیوبند،سماج نیوز سروس: شانتی دیوی جونیئر ہائی اسکول میں اترپردیش کے منظور شدہ تعلیمی اداروں کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی ۔میٹنگ کی صدارت ٹیچرز یونین کے سرپرست اپدیشن رانا نے کی اور نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری اروند شرما نے انجام دیئے ۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے صوبائی صدر ڈاکٹر اشوک ملک نے کہا کہ موجودہ حکومت منظور شدہ تعلیمی اداروں کے بنیادی اسکولوں کے اساتذہ کو استاذ ہی نہیں جانتی ،جبکہ ہمارے بہتر تعلیمی نظام کے باعث طلبہ کی تعداد 500 سے پانچ ہزار تک ہوجاتی ہے لیکن جو اسکول 50طالب علموں کی تعداد تک نہیں پہنچ پاتے ان تعلیمی اداروں کے ٹیچرز کو حکومت اساتذہ کا درجہ دیتی ہے اوران ہی کو ودھان پریشد شکشک سیٹ پر ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور ان ہی اساتذہ کو گورنر کا اعزاز اور راشٹر پتی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے ۔جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ٹیچرز کوووٹ دینے کا بھی حق حاصل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کے معیار کو تو بہتر بنانے کا کام نہیں کررہی ہے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے ٹرینڈ اور ان ٹرینڈ ہونے کی جانچ کی جارہی ہے ۔ڈاکٹر اشوک ملک نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی جانچ کی نام پر افسران تعلیمی اداروں کے مالکان کا خوب استحصال کررہے ہیں یعنی حکومت خود بدعنوانی کو بڑھاوا دے رہی ہے ،انہوں نے بتایا کہ اسکولوں سے غریب بچوں کی فیس کے اعداد وشمارے طلب کئے گئے تھے لیکن 2016سے آج تک فیس کی یہ رقم اسکولوں کو ادا نہیں کی گئی ۔ایسی صورت میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے غریب بچوں کو کب تک تعلیم دیتے رہیں گے ۔تنظیم کے ضلع صدر یوگیش شرما اوراپدیشن رانا نے کہا کہ اپارآئی ڈی پرائیویٹ اسکولوں کے لئے سر درد بنی ہوئی ہے ،آدھارمیں گرپڑی ہونے کیوجہ سے اگر ایک طالب علم کی اپار آئی ڈی ٹھیک ہوجاتی ہے تو دوسرے طالب علم کی غلط ہوجاتی ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری ملازمین سے اس کا م کو کرائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیدائش سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اسکولوں میں داخلے کرتی ہے لیکن پیدائش سرٹیفکیٹ سے اپارآئی ڈی تیار ہونا ممکن نہیں ہے جنرل سکریٹری اروند شرما اورخازن وریندر سنگھ پنوار نے کہا کہ یوڈائس اور ایار آئی ڈی کے لئے حکومت پر ائیویٹ اسکولوں میں کمپیوٹر آپریٹر اورلیپ ٹاپ کا انتظام کرے ورنہ یہ تمام کا م سرکاری ملازمین سے کرائے ۔اس موقع پر صوبائی نائب صدر کے ۔پی سنگھ ، پروین کمار گپتا ،ارون سینی ،ماسٹر ستیش شرما ،راجکمار سینی ،ماسٹر ڈرگاپرساد ،ماسٹر قیوم ،ماسٹر کنور پال ،ماسٹر سراج خان ،ماسٹر دلدار ،آشیش سینی ، ماسٹر پشپیندر پنڈیر ،سنجے کلدیپ ،ماسٹر ساجد علی اور شمشاد علی وغیرہ موجود رہے ۔












