تہران، (یو این آئی) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے، تہران پر عسکری حملہ کرنے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کے عسکری و جہاز رانی مراکز کو جائز اہداف قبول کیا جائے گا۔ اتوار کو منعقدہ پارلیمانی اجلاس میں قالیباف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ "جائز دفاع کے دائرے میں، اپنے خلاف کسی کارروائی کے بعد، ہم خود کو محض جوابی کاروائی تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ اگر امریکی فوجی حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے (اسرائیل) بھی اور امریکی فوجی وجہاز رانی مراکز بھی ہمارے لیے قانونی اہداف ہوں گے”۔ انہوں نے کہا ہے کہ "حالِ حاضر میں ایران، اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی جنگ پر مشتمل، چار محاذوں پر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ نبرد آزما ہے اور یہ محاذ بیک وقت کھولے گئے ہیں "۔ دوسری طرف ٹرمپ نے بروز ہفتہ جاری کردہ بیان میں، ایران میں 28 دسمبر سے جاری احتجاجی مظاہروں پر بات کی اور کہا ہے کہ یرانی آزادی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور واشنگٹن ایرانیوں کو مدد کی فراہمی پر تیار ہے ۔ ایران میں ہنگاموں کے دوران 109 سکیورٹی ہلاک ہو گئے ہیں۔ قطر کے الجزیرہ چینل نے ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں کہاہے کہ ایران کے مختلف حصوں میں جاری احتجاجی مظاہروں میں چند روز کے دوران کم از کم 109 ایرانی سکیورٹی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی ریال کی قدر میں شدّت سے کمی اور بگڑتی اقتصادی شرائط کی وجہ سے 28 دسمبر سے تہران کے گرینڈ بازار سے حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے اور تیزی سے متعدد شہروں میں پھیل گئے ہیں۔ مظاہروں میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں فی الوقت کوئی سرکاری اندازے موجود نہیں ہیں۔ تاہم تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ٹائم میگزین کو بتایا ہےکہ دارالحکومت کے چھ اسپتالوں نے کم از کم 217 مظاہرین کی اموات کا اندراج کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر براہِ راست فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مظاہروں میں جدید آتشی اسلحہ استعمال کرنے کی ویڈیو جاری کردی اعداد و شمار کے اعتبار سے اب تک ایران میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 اہلکار ہلاک ہوچکے۔ واضح رہے کہ مظاہروں میں ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں کیے گئے۔ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورت حال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں نے مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ایرانی کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی اور یونانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا۔












