(بھاگل پور، پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتما م جوثر ایاغ کی صدارت میں رضا نقوی واہی کے یوم پیدائش پر ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریڑی ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا رضا نقوی واہیؔ کے حیات و کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رضا نقوی واہی ہند و پاک کے ایک مشہور مزاحہ شاعر تھے ۔ انکی شاعری کی بنیادی اور فکری اساس ان اصلاحی،اخلاقی اور تعمیری پہلوئوں پر ہے جو ہمارے سماج کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوںنے اپنی شاعری سے زندگی کے ہر پہلو پر تنقید کی،زندگی کا شاید ہی ایسا گوشہ ہو جو انکے طنز و مزاح کے نشتر سے محفوظ رہا ہو۔ انکا اصل نام سید محمد رضا نقوی ،تخلص رضا نقوی۔17جنوری 1914ء کو کھجوا،سیوان،بہار میں پیدا ہوئے اور وفات جنوری 1962ء میں۔والد کا نام مولوی سید ظہورحسین،والدہ کا خیر النساء اور اہلیہ کا مان سیدہ شاکر ہ خاتون ۔انہوں نے میٹرک 1930ء میں کیا ،انٹرمیڈیٹ 1932ء میں پٹنہ سے کیا۔1937ء میں بہار لیجس لیٹو اسمبلی میں نوکری کی پھر ترقی پا کر بہار کائونسل سکریٹریٹ میں اسٹنٹ سکریٹری کے عہدے سے سکبدوش ہوئے۔1928ء میں انہوں اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کی۔انکی تصانیف میں واہیات،طنز وتبسم،نشتر و مرہم،کلام نرم و نازک(پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے مرتب کیا)،نام بہ نام(منظوم خطوط کا مجموعہ)، متاع واہی،شعرستان واہی،منظومات واہی،ترکش واہی،چٹ پٹی نظمیں(ہندی)وغیرہ اہم ہیں۔ انہیں کئی ایوارڈ بھی ملے جن میں بہار اردو اکادمی ایوارڈ ، غالب ایوارڈ،مولانا مظہر الحق شکھر سمان،اتر پردیش اکادمی ایوارڈ اہم ہیں۔انکی اہم نظموں میں محقق ،نقاد، پی۔ایچ۔ڈی۔ آئینہ،انتقال کے بعد، ریل کا سفر، سکندرنامہ،تبصرہ نگاری،زبان،میرے چمچو،انٹرویو،بڑا صاحب،شاعر کا پروگرام،نئے لیڈروں کی دعا،پروفیسر نامہ،گھریلو منصوبہ،رشوت،جدید عملی تنقید،ٹیڈی کفن،گوپال متل،فلم اسٹار،نور چشم،اپیل،الکشن،عورتوں کا سال،راشن کی دکان،خدمت ادب، شہر کے لئے، الکشن اور برقعے وغیرہ اہم ہیں۔اس موقع پرجوثر ایاغ نے کہا کہ انہوں نے اپنی ظریفانہ شاعری میں اردو کے ساتھ انگریزی الفاظ اس طرح پیوست کیا ہے کہ شاعری میں ایک ننا لطف پیدا ہو گیا ہے۔ڈاکٹر نیر حسن نے کہا کہ انکی نظموں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے انکے اندر فکر و فن کی بلندیاں اپنی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہیں۔محمد شاداب عالم نے کہا کہ انکی شاعری سے انکا مخصوص انداز،انکی فکر و آہنگ،منفرد لب و لہجہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ نشست میں شامل ،صبیحہ کوثر،نوشین جہاں،محمد تاج الدین،محمد نصر عالم نے رضا نقوی واہیؔکے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔












