کانپور،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام، شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی سرپرستی اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی زیر نگرانی، تاریخی اور مرکزی سہ روزہ عظیم الشان اجلاس "معراج النبی ﷺ” کا آغاز رجبی گراؤنڈ پریڈ میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ ہوا۔ اجلاس کے پہلے دن عوام و خواص کے جم غفیر نے شرکت کی، جس سے علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے واقعہ معراج کے پیغامات اور موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کے روحِ رواں اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں اجلاس کے اغراض و مقاصد اور ضرورت و اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر دین کو مکمل فرمایا اور آپ ﷺ کے بعد دعوت و تبلیغ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دین کی حفاظت کی ذمہ داری اس امت کے کاندھوں پر ڈالی ہے۔ شریعت نے اس کام کے لیے کوئی ایک مخصوص طریقہ متعین نہیں کیا بلکہ قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی اجازت دی ہے جو دین کی اشاعت کے لیے مفید ہو۔ مدارس کا قیام، تصنیف و تالیف، وعظ و تقریر اور دعوت و تبلیغ یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ مدارس اسلامیہ دین کی حفاظت کے سب سے مضبوط قلعے ہیں جہاں سے قرآن و حدیث کا علم سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے پرفتن دور میں جب اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، ایسے جلسے وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں تاکہ مسجد کے محدود دائرے سے نکل کر کھلے میدانوں میں تمام انسانوں تک اسلام کا سچا اور امن والا پیغام پہنچایا جائے اور انسانیت کو درپیش بے سکونی کا حل سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ اجلاس کے مہمانِ خصوصی مدرسہ فاروقیہ لکھنؤ کے استاذ مولانا حارث عبد الرحیم فاروقی نے اپنے تفصیلی اور پرمغز خطاب میں واقعہ معراج کے تاریخی و روحانی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعہ معراج امت مسلمہ کے لیے محض ایک معجزہ نہیں بلکہ یہ ہمیں ہر دور میں استقامت اور امید کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ’’عام الحزن‘‘ (غم کے سال) کے بعد پیش آیا، جب حضور ﷺ کے دو بڑے سہارے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت ابو طالب دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور طائف میں آپ ﷺ کو شدید اذیتیں دی گئیں۔ ایسے کٹھن حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو آسمانوں کی سیر کراکر یہ پیغام دیا کہ مشکلات اور آزمائشوں کے بعد ہی بلندی اور نصرتِ خداوندی نصیب ہوتی ہے۔ مولانا حارث عبد الرحیم نے موجودہ دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے امت کو تین بڑے فتنوں سے ہوشیار رہنے کی سخت تاکید کی۔












