سید پرویز قیصر
اروناچل پردیش ہندوستا ن کی ایک ریاست ہے مگروہاں رہنے والوں کے علاوہ ہندوستان کے ہر شہری کیلئے وہاں جانے کیلئے پرمٹ لازمی ہے۔یہ پرمٹ جس کو اروناچل پردیش میں داخلہ کا پاس بھی کہا جاتا ہے، اروناچل پردیش کی حکومت کے زریعئے جاری کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے پاس اپنے شہر کاووٹرکارڈ یا ادھار کارڈہویا ہے انہی لوگوں کو یہ پرمٹ یا پاس جاری کیا جاتا ہے جس پر فوٹو بھی لگا نا ضروری ہے۔اروناچل پردیش کی سرحد چین سے ملتی ہے ۔اگرآپ چین کے سرحد تک جانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک دوسرا پرمٹ بھی لینا ہوگا جو حکومت اروناچل پردیش جاری کرتی ہے۔ ہندوستان اور چین کی سرحدیںڈسٹرکٹ بومڈلا میں ملتی ہیں جس سطح سمندرسے15200 فٹ اونچی ہے۔ یہاں آکسیجن کافی کم ہے اور سریوں میں یہاں کا درجہ حرارت منفی پندرہ سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دو ٖفٹ تک برف جم جاتی ہے۔ جنوری میں درجہ حرارت منفی دس سے زیادہ رہتامگر دھوپ نگلنے کی صورت میں یہ دو یا تین ڈگری سیلسیس ہوجایاہے۔ اس موسم میں یہاں موجود سبھی جھیلیں جم جاتی ہیں اور جہاں جہاں پانی ہویا ہے وہ بھی برف بن جاتا ہے۔بومڈلا ڈسٹرکٹ کامکمل کنڑول ہندوستان کی فوج دیکھتی ہے۔ سرحد سے لگ بھگ دو سو پچاس میٹر تک تو سیاح تصویر لے سکتے ہیں مگراسکے بعد تصویر لیناممنوع ہے۔ سرحد یا صفر پوائنٹ پر ہندوستانی فوج ان سیاحوں کیلئے تصویر کھنچتی ہے جو اس جگہ کی تصویر چاہتے ہیں۔ وہ اس تصویر کا فریم بناکر چارسو روپے لیتی ہے۔مسلمانوں کی آبادی اروناچل پردیش میں لگ بھگ 21 ہزار یعنی آبادی کا لگ بھگ دو فیصد ہے۔یہاں لگ بھگ 34 فیصد ہندو اور18 فیصدعیسائی ہیں۔ بودھ یہاں کا تیسرا سب سے بڑا مذہب ہے جس کے ماننے والے یہان لگ بھگ13 فیصد ہیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق اروناچل پردیش کی آنادی1,383,727 افراد پر مشتمل ہے جس میں27,045 مسلمان شامل ہیں۔ مسجدیں اروناچل پردیش میں بے حد کم ہیں اور کوئی بڑی نمایاں مسجد نظر نہیں آتی۔آسام کی سرحد کے قریب تیزو میں ایک جامع مسجد ہے جبکہ اروناپل پردیش کی راجدھانی ایٹا نگر میں بھی جامع مسجد موجود ہے۔ یہاں زیادہ تر مسلمان آسام سے آئے ہوئے ہیں۔اروناچل پردیش میں چھوٹے چھوٹے شہر یا ڈسٹرکٹس ہیں۔ لوگ آپس میں آرام سے رہتے ہیں ،کرائم بھی بے حد کم ہے اور پولیس زیادہ تر تھانوں میں نظرآتی ہے۔ ٹریفک پولیس بھی بے حد کم ہے اور اشارہ یعنی ٹریفک سگنلر بھی بہت کم جگہوں پر ہیں۔اسکی راجدھانی ایٹانگر سب سے بڑا شہر بھی ہے جس کی آبادی59,490 افراد پرمشتمل ہے۔ ایٹا نگر میں لگ بھگ تین ہزار مسلمان رہتے ہیں۔ ویسے تو یہاں ہندی جاننے والے بھی ہیں مگر سب سے زیادہ نشی زبان کے بولنے والے سب سے زیادہ ہیں جن کی تعداد 17,896 ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان انگریزی ہے۔اروناچل پردیش میںبھینس کا گوشت نہیں ملتا مگر گائیں کا گوشت آسانی سے ملتا ہے جو اس وقت لگ بھگ چار سو روپے کلو ہے۔ بکرے کا گوشت بھی یہاں کمی سے ملتا ہے مگر بوائلر چکن اور لوکل چکن کا گوشت یہاں آسانی سے ملا جاتا ہے جو اس وقت تین سو روپے کلو ہے۔ یہ بوائلز کے ریٹ ہیں۔لوکل چکن کا ریٹ پانچ سو روپ کلو ہے۔ یارک کا گوشت بھی یہا ں کثرت سے ملتاہے جس کا ریٹ لگ بھگ سات سو روپے کلو ہے۔ مقامی لوگ زیادہ تر چاول کھاتے ہیںاور حکومت مقامی لوگوں کو کم قیمت یا مفت چاول فراہم کراتی ہے۔بارات لڑکی لیکر جاتی ہے لڑکے کو بیاہ کرلاتی ہے۔ جائیدار بھی عورتوں کے نام ہوتی ہے اور زیادہ تر کاروباربھی وہی کرتی ہیں۔اروناچل پردیش میں پولیس سے زیادہ فوج کے جوان نظرآتے ہیں۔ ہر راستے میں فوج کی چوکیاں نظر آتی ہیں۔ فیصل فیچرس












