نئی دہلی،(یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو روزنامہ پنجاب کیسری اخبار کی اشاعت میں رخنہ ڈالنے والی کسی بھی کارروائی سے گریز کرنے کی ہدایت دی، جس میں میڈیا گروپ نے الزام لگایا تھا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی قیادت والی ریاستی حکومت کے ذریعہ اپنی ناموافق رپورٹنگ پر اسے منتخب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جائمالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے پنجاب کیسری گروپ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی کی عرضداشت پر سماعت کے بعد عبوری حکم جاری کیا۔ بنچ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ "فریقین کے حقوق کی مخالفت کیے بغیر اور فی الحال کیس کے میرٹ پر کوئی رائے ظاہر کیے بغیر، یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ پرنٹنگ پریس کا بلا تعطل جاری رہنا چاہئے، جبکہ تجارتی یونٹس کو فی الحال بند رکھا جائے”۔ عدالت عظمی نے واضح کیا کہ عبوری حکم اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ اس معاملے میں اپنا حکم نہیں سناتا ہے اور اس کے بعد مزید سات دنوں کی مدت تک یہ مہلت جاری رہے گی، تاکہ متاثرہ فریق سپریم کورٹ سے رجوع کر سکے۔ مسٹر روہتگی نے عرض کیا کہ گروپ کا پرنٹنگ پریس بجلی منقطع ہونے کے بعد جزوی طور پر بند کردیا گیا تھا اور میڈیا گروپ کے ذریعہ چلائے جانے والے دو ہوٹلوں کو بھی ریگولیٹری کارروائی کے تحت بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں حکمراں پارٹی کے خلاف شائع ہونے والی منفی خبروں کا براہ راست نتیجہ ہیں اور آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ اخبار کی اشاعت کو روکنا جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بنچ کو مزید مطلع کیا کہ اگرچہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر پیر کے روز طویل سماعت کرکے اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا، لیکن اس نے عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے گروپ کو اپنی روزانہ اشاعت میں رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ شاداں فراست نے یہ موقف اختیار کیا کہ آلودگی کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کی صرف ایک اکائی متاثر ہوئی ہے اور یہ کہ پرنٹنگ پریس کا پورا آپریشن بند نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹ کے سامنے زیر التواء ہے اور جلد ہی اس کا فیصلہ متوقع ہے۔سماعت کے دوران، بنچ نے کسی بھی ایسی کارروائی کے جواز پر سوال اٹھایا جس سے روزنامہ اخبار کی اشاعت متاثر ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ”ہوٹل پر کارروائی تو ٹھیک ہے لیکن اخبار کیوں بند کیا جائے؟”جب انہيں بتایا گیا کہ صرف ایک اکائی بند ہوئی ہے، تو بنچ نے جواب دیا کہ اخباری کاموں میں خلل نہیں آنا چاہیے، خواہ تجارتی اکائیاں بند رہیں۔پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل منیندر جیت سنگھ بیدی نے بھی نشاندہی کی کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔












