حیدرآباد ،پریس ریلیز،ہماراسماج: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اگرچہ کہ ایک قومی یونیورسٹی ہے لیکن یہاں پر تلنگانہ کے مقامی طلبہ کی تعداد برائے نام ہے۔ ایسے میں اردو یونیورسٹی کا موجودہ انتظامیہ مقامی طلبہ کے داخلوں میں اضافے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج ”اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں“ پروگرام کے 24 ویں مرحلہ کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2021ءمیں جب انہوں نے اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا تھا اس وقت یونیورسٹی میں صرف 27فیصدی خواتین مانو میں زیر تعلیم تھیں۔ اس ضمن میں مختلف اقدامات کیے گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج مانو میں زیر تعلیم لڑکیوں کی تعداد 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔پروفیسر سید عین الحسن نے مزید کہا کہ اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام اگست 2025ءمیں شروع کیا گیا اور آج تک تقریباً 2800 طلباءو طالبات اس پروگرام کے ذریعہ سے اردو یونیورسٹی میں دستیاب مختلف تعلیمی مواقعوں سے آگہی حاصل کرچکے ہیں۔ پروفیسر عین الحسن کے مطابق شہر حیدرآباد کے عوام میں اردو یونیورسٹی کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ اور اسی کمی کو دور کرنے کے لیے اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام شروع کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ دوسرے کالجوں میں جس کورس کے لیے لاکھوں روپئے خرچ کر رہے ہیں وہی کورس انہیں مانو میں انتہائی کم فیس پر پڑھایا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعہ انہیں نوکریاں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔قبل ازیں پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری، اسوسی ایٹ پروفیسر ایم سی جے، نے اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ اور کہا کہ اس پروگرام کا مقصد زیادہ سے زیادہ داخلوں کو یقینی بنانے اردو یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی مواقعوں کے متعلق آگہی میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق آج کے اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول تیغہ، یاقوت پورہ، کوٹھی ویمنس کالج (کوٹھی یونیورسٹی) اور ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے 350 سے زائد طلباءو طالبات نے شرکت کی۔ قبل ازیں مانو المنائی اسوسی ایشن کے صدر اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ نے خیر مقدمی کلمات کہے اور اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کی سرپرستی کرنے کے لیے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ طویل مدت میں اس آگہی پروگرام کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ اس موقع پر ایم ایس اکیڈیمی کے ڈائرکٹر معظم حسین نے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ساتھ طویل مدتی باہمی مفاہمت کے لیے کام کرنے کوشاں ہے۔پروگرام کے دوران ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر پروفیسر صدیقی محمد محمود نے بھی طلبہ کو مخاطب کیا اور معیاری تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا۔ ڈائرکٹر المنائی افیئرس پروفیسر سید نجم الحسن نے اردو یونیورسٹی کے فیس اسٹرکچر کو معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے انتہائی دوست قرار دیا۔ڈاکٹر عتیق صدیقی، ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی، ڈاکٹر احتشام الحسن مجاہد، ویمنس یونیورسٹی اور گورنمنٹ ہائی اسکول تیغہ کے ہیڈ ماسٹر جناب زاہد حسین نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔ آخر میں ناصر حسین شعیب نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر طلبہ کو یونیورسٹی میں موجود سہولیات کے بارے میں ایک ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی۔












