نئی دہلی، (یو این آئی): مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی کے دوران 58 لاکھ ووٹروں کے نام مناسب طریقہ کار کے بغیر فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی اس میٹنگ میں ان کے ساتھ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی، رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور پارٹی کے دیگر لیڈر بھی موجود تھے۔ میٹنگ کا بنیادی موضوع مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات تھے۔الیکشن کمیشن سے باہر نکلنے کے بعد محترمہ بنرجی نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی رنجیدہ اور دکھی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے نام پر مغربی بنگال میں 58 لاکھ ووٹروں کے نام مناسب طریقہ کار کے بغیر ہٹا دیے گئے اور لوگوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔ محترمہ بنرجی نے کہا کہ جمہوریت میں انتخابات ایک تہوار کی طرح ہوتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی کارروائی نے اس جذبے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایس آئی آر کرنا ہی تھا تو اسے انتخابی ریاستوں سے الگ اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار آسام میں ایس آئی آر نہیں ہوا جبکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو کو نشانہ بنایا گیا۔ پیدائشی سرٹیفکیٹ مانگے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے محترمہ بنرجی نے کہا کہ پہلے زیادہ تر پیدائشیں گھروں میں ہوتی تھی ایسے میں یہ دستاویز مانگنا غیر عملی ہے۔وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران بوتھ لیول ایجنٹ سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور کئی زندہ افراد کو ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا گیا جو پورے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔












