نئی دہلی، (یو این آئی) نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ممبران پارلیمنٹ نے منگل کو پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی اعلان پر وزیر اعظم نریندر مودی کا خیرمقدم کیا۔اعلان کی ستائش کرتے ہوئے، بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے جے مودی، وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ وزیر اعظم کا خیر مقدم کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستانی اشیا پر امریکی درآمدی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دی جائے گی۔ مسٹر ٹرمپ نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے دوستی اور احترام کی علامت قرار دیا ہے۔ مسٹر مودی نے کچھ دیر بعد ایکس پر اس کی تصدیق کی۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان نے ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس میں امریکہ نے باہمی درآمدی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے، یہ سب وزیراعظم مودی کے تئیں دوستی اور احترامکے لیے کیاگیا ہے۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر کہا کہ اس معاہدے میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں کمی شامل ہو گی۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کردے گا۔ اس سے قبل مسٹر ٹرمپ نے ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس میں 25 فیصد روس سے خام تیل کی درآمد سے متعلق تھا، کیونکہ امریکی انتظامیہ کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان کی روس سے تیل کی خریداری روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے۔میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر نتن نبین کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ سمیت سینئر لیڈران موجود تھے۔دریں اثنا حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملے پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا جائے گا اور متعلقہ وزیر بھی معاہدے کے بارے میں ایوان کو آگاہ کریں گے۔ راجیہ سبھا میں منگل کے روز اپوزیشن اراکین نے سخت اعتراض کیا کہ پارلیمنٹ کو اس معاہدے کی جانکاری نہیں دی گئی جبکہ امریکہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کا ذکر کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت سے فوری بیان دینے کا مطالبہ کیا اور اس مسئلے پر ایوان میں شور شرابہ کیا۔ ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اپوزیشن کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ہی پارلیمنٹ کو اس معاہدے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزیر بھی اس پر بیان دیں گے۔ نڈا نے کہا کہ اپوزیشن کو مایوسی میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اچھائی میں بھی برائی تلاش کرنا اس کی عادت بن گئی ہے اور یہ طریقہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل رات امریکی صدر نے اس معاہدے کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹویٹ کے ذریعے اطلاعات دی ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کو بھی سب کچھ بتانے کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔












