شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج : ایسے وقت میں جب زبان، تہذیب اور ثقافتی شناختیں سیاست کی گرد میں دبتی جا رہی ہوں، اردو زبان کے وقار، اس کی تہذیبی وسعت اور عالمی معنویت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیرِ اہتمام سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس 2026 کا افتتاح نئی دہلی میں نہایت وقار، فکری سنجیدگی اور تہذیبی جمال کے ساتھ عمل میں آیا۔ کانفرنس کا موضوع ’’کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب‘‘ نہ صرف وقت کی ضرورت کا آئینہ دار ہے بلکہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں زبانوں کے باہمی احترام اور اشتراک کی ایک بامعنی تعبیر بھی پیش کرتا ہے۔افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر این سی پی یو ایل ڈاکٹر شمس اقبال نے جس بصیرت، اعتماد اور فکری استقامت کے ساتھ اردو زبان کے عالمی کردار اور ہندوستانی کثیر لسانی معاشرے میں اس کی جڑوں پر روشنی ڈالی، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں جہاں اکثر زبان کو احتجاج اور شکوہ کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے، وہیں ڈاکٹر شمس اقبال نے کسی لعن طعن یا تلخی کے بجائے عمل، منصوبہ بندی اور مثبت نمائندگی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اردو آج بھی ہندوستان کی فکری و تہذیبی تعمیر میں زندہ کردار ادا کر رہی ہے۔ڈاکٹر شمس اقبال نے واضح کیا کہ یہ کانفرنس محض ایک ادبی اجتماع نہیں بلکہ اردو زبان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ تین دنوں پر مشتمل اس کانفرنس میں علمی و فکری مکالمے کے ساتھ ساتھ مشاعرہ، شامِ غزل اور ہیومر باز جیسے ثقافتی پروگرام بھی شامل ہیں، جو اردو کی ہمہ جہتی روح کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کانفرنس میں بزرگ دانشوروں کے ساتھ نئی نسل، خواتین قلم کاروں اور نوجوان مقالہ نگاروں کو بھی بھرپور موقع دیا گیا ہے، جو اردو کے مستقبل کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔یہ عالمی کانفرنس محض ہندوستان تک محدود نہیں، بلکہ اس میں برطانیہ، سویڈن، فرانس، ماریشس، جاپان، مصر، قطر سمیت کئی ممالک سے قریب 90 ممتاز دانشوروں کی شرکت اردو کی بین الاقوامی قبولیت اور اس کی زندہ روایت کا ثبوت ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ قومی کونسل نے اس کانفرنس کے ذریعے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وژن کو اردو زبان میں آگے بڑھانے کی عملی راہ ہموار کی ہے۔افتتاحی اجلاس میں موجود اردو، ہندی اور انگریزی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شمس اقبال نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کی مضبوط نمائندگی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زبانیں نعروں سے نہیں بلکہ خاموش، مسلسل اور مخلصانہ محنت سے زندہ رہتی ہیں۔عالمی اردو کانفرنس 2026 دراصل اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور سمت درست، تو اردو آج بھی عالمی سطح پر نہ صرف سنی جا سکتی ہے بلکہ سمجھی اور اپنائی بھی جا سکتی ہے۔












