نئی دہلی، (یو این آئی) دہلی کی ایک عدالت نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت 23 ملزمین کو شراب پالیسی سے متعلق مبینہ گھپلے کے معاملے میں جمعہ کے روز بری کر دیا۔ فیصلہ آنے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران مسٹر کیجریوال جذباتی ہو گئے۔ صحافیوں سے گفتگو میں عدلیہ پر اپنا اعتماد دہراتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ ان کی پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ آخرکار جیت سچ کی ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستانی نظامِ انصاف پر مکمل بھروسہ ہے اور ہم اپنے اور اپنے ساتھیوں پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں ۔عام آدمی پارٹی کے کنوینر نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہم پر الزام لگا رہی تھی، لیکن عدالت نے سب کو بری کر دیا، سچ کی جیت ہوئی ہے۔ امت شاہ اور مودی جی نے مل کر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کی بڑی سیاسی سازش رچی اور پارٹی کے پانچ بڑے لیڈران کو جیل میں ڈالا گیا ۔ عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے اروند کیجریوال کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں پوسٹ کر کے کہا کہ کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، وہ خدائی انصاف سے بالاتر نہیں ہے اور سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔وہیں سابق وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہیں بی آر امبیڈکر کے تصور و نظریات کے تحت بنے آئین پر فخر ہے اور بار بار انہیں بے ایمان ثابت کرنے کی کوششوں کے باوجود عدالت کے فیصلے نے ان کے مؤقف کو درست ثابت کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے بھی عدالت کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی اور اس کے رہنماؤں کو بدنام کرنے کی بڑی سازش بے نقاب ہوئی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں مرکز کی برسرِ اقتدار حکومت پر تفتیشی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور معافی کا مطالبہ کیا۔اس دوران کیجریوال کے وکیل ایڈوکیٹ وویک جین نے کہا کہ عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور پایا کہ کوئی بھی الزام فردِ جرم عائد کرنے کے لیے درکار قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ان کے مطابق عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں، جو الزامات کی تصدیق کرتا ہو اور یہ بھی نوٹ کیا کہ آبکاری پالیسی باقاعدہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت تیار کی گئی تھی۔مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جمعہ کو دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو بری کرنے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سی بی آئی کا یہ فیصلہ یہاں کی راؤس ایونیو عدالت کے مسٹر کیجریوال، مسٹر سسودیا اور 21 دیگر ملزمان کو ایکسائز پالیسی سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں بری کرنے کے بعد آیا ہے۔ خصوصی جج جتیندر سنگھ نے چارج شیٹ میں نامزد کسی بھی شخص کے خلاف الزام طے کرنے سے انکار کردیا تھا۔سی بی آئی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نچلی عدالت نے ان کی تحقیقات کے کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس کے پیش نظر سی بی آئی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی۔ قبل ازیں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سی بی آئی نے ان سینئر لیڈروں کو بغیر کسی "ٹھوس مواد” کے ملزم بنایا۔ عدالت نے چارج شیٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا گیا کہ مسٹر سسودیا کے خلاف پہلی نظر میں کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے اور مسٹر کیجریوال کو خاطر خواہ ثبوت کے بغیرمعاملے میں شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے تحقیقات میں کوتاہیوں پر تفتیشی ایجنسی کی سرزنش بھی کی۔عدالت کے فیصلے کے بعد مسٹر کیجریوال نے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس معاملے کو اپنی پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی سازش قرار دیا۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کی حکمرانی میں ان کے اعتماد کی تصدیق کرتا ہے۔












