کانپور،سماج نیوز سروس : دہلی کے اتم نگر (جے جے کالونی) علاقے میں ایک نوجوان کی موت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنا کر کی جانے والی غنڈہ گردی، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیزی پر جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس نازک موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی مدظلہ کی ہدایت پر ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں جمعیۃ کے اعلیٰ سطحی وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر جتن نروال سے ملاقات اور مرکزی وزیر داخلہ سمیت دہلی کے اعلیٰ حکام کو بھیجے گئے مکتوب کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے حالات پر قابو پانے کے لیے ایک انتہائی ضروری اور بروقت قدم قرار دیا۔ اپنے اخباری بیان میں مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ ۲۶ سالہ ترون کمار کی موت کا واقعہ بلاشبہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہم اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس واقعے کی آڑ میں جس طرح بعض شرپسند عناصر نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلم اقلیت کے گھروں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کی ہے، وہ ملک کی راجدھانی کے امن و امان پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر کھلے عام نسل کشی کی دھمکیاں دینا اور قانون کا کوئی خوف نہ ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ملک کے دارالحکومت کو بھی فساد کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے ایم سی ڈی (MCD) کی جانب سے کی گئی یکطرفہ اور غیر قانونی بلڈوزر کارروائی کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح طور پر فیصلہ دے چکی ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی صرف قانون کے طے شدہ طریقہ کار (Due Process of Law) کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔ بغیر کسی قانونی جواز کے اقلیتوں کی املاک کو مسمار کرنا سراسر ظلم اور آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پر فوری روک لگنی چاہیے۔ مولانا قاسمی نے مرکزی جمعیۃ علماء ہند کے پیش کردہ پانچ مطالبات کی مکمل تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ جن لوگوں نے نفرت انگیز نعرے لگائے، اشتعال انگیزی کی اور املاک کو نقصان پہنچایا، ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کی آمد آمد ہے، اس لیے مسلمانوں کو مساجد، عیدگاہ اور بازاروں میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی عبادات اور روزمرہ کے کام سرانجام دے سکیں۔ انہوں نے جوائنٹ کمشنر پولیس کی جانب سے وفد کو دی گئی یقین دہانی، شرپسندوں اور بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی اور دکانیں معمول کے مطابق کھلوانے کی فوری ہدایات کو خوش آئند قرار دیا۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء اترپردیش اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مرکزی قیادت کی رہنمائی میں ہر اس قانونی اور جمہوری اقدام میں شانہ بشانہ کھڑی رہے گی جو مظلوموں کے تحفظ، ملک میں امن و امان کے قیام اور آئین کی بالادستی کے لیے اٹھایا جائے گا۔












