لکھنؤ،سماج نیوز سروس:خواجہ معین الدین لینگویج یونیورسٹی اور رام پور رضا لائبریری کے درمیان یونیورسٹی کی چانسلر اور اترپردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل کی رہنمائی میںایک تاریخی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ ہندوستان کی عظیم علمی، تعلیمی اور ثقافتی وراثت کے تحفظ، فروغ اور منظم مطالعے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف دونوں اداروں کے مابین تعلیمی تعاون کو نئی رفتار ملے گی بلکہ تحقیق اور علمی تبادلے کے میدان میں بھی وسیع امکانات روشن ہوں گے۔اس معاہدے پرلینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا اور رام پور رضا لائبریری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پشکر مشرانے اپنے اپنے اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔ دستخط سے قبل منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دونوں مقررین نے اس شراکت داری کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پرلینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے کہا کہ یہ ایم او یو خاص طور پر رام پور رضا لائبریری میں محفوظ نایاب اور قیمتی مخطوطات کی تلاش، تحقیق، ڈیجیٹلائزیشن، فہرست سازی اور تحفظ کے لیے مشترکہ منصوبوں کو فروغ دے گا۔ ساتھ ہی محققین اور اسکالرز کو ان مخطوطات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھون نے کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ہندوستانی روایت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی جیسی زبانوں کے ذریعے ہونے والی مشترکہ تحقیق نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرے گی بلکہ بین العلومی مطالعے کے نئے در بھی وا کرے گی۔ اس نوعیت کا تعاون ہندوستانی علمی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ڈاکٹر پشکر مشرا نے اپنے خطاب میں پروفیسر اجے تنیجا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال اور دور اندیش رہنمائی کے باعث ہی یہ اہم معاہدہ ممکن ہو سکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس اشتراک کے تحت مشترکہ سیمینار، ورکشاپس، تربیتی پروگرام اور تحقیقی منصوبے منعقد کیے جائیں گےجن سے طلبہ اور محققین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔تقریب میں ممتاز ماہر تعلیم اور سماجی کارکن ڈاکٹر مونیکا تنیجا کی باوقار موجودگی نے پروگرام کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ (عربی)، ڈاکٹر محمد اکمل (اردو)، ڈاکٹر عارف عباس (فارسی) اور ڈاکٹر یوسف ایاز (انگریزی) بھی شریک رہے ااس موقع پر ورندابن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کےڈائریکٹر ڈاکٹر راجیو دویویدی بھی موجود تھے جو رامپور رضا لائبریری کے ساتھ ایک علیحدہ معاہدے کے سلسلے میں آئے تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں بھی اس مفاہمت کو اہم قرار دیا












