اسرائیلی صدر اسحاق ہرتسوگ نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے بدعنوانی کے طویل مدتی مقدمے میں دائر کردہ معافی کی درخواست پر صرف اسی صورت میں غور کریں گے جب اعترافِ جرم کے معاہدے تک پہنچنے کی تمام ممکنہ کوششیں مکمل ہو جائیں گی، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ معافی کا فیصلہ جلد متوقع نہیں ہے۔اسحاق ہرتسوگ نے آج اتوار کے روز کہا کہ بنجمن نیتن یاھو کے مقدمے میں اعتراف جرم کے کسی معاہدے تک پہنچنا ہی بہترین حل ہوگا۔انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اسی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ معافی کی درخواست پر خود غور کرنے سے پہلے تمام تر کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ فریقین کے درمیان عدالت سے باہر کوئی معاہدہ طے پا سکے۔صدر اسحاق ہرتسوگ کے دفتر نے یہ بیان نیویارک ٹائمز کی اتوار کی اس رپورٹ کے بعد جاری کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صدر اعترافِ جرم کے معاہدے کے لیے ثالثی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ فی الوقت معافی کے کسی بھی فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔صدارتی ترجمان نے بیان کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا معاہدہ کرنے کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے بھی تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔بنجمن نیتن یاھو نے نومبر میں معافی کی درخواست پیش کی تھی۔ اسرائیلی قانون کے تحت صدر کو مجرموں کو معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن ٹرائل کے دوران معافی جاری کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اسحاق ہرتسوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بنجمن نیتن یاھو کو معاف کر دیں، ان کا ایک مطالبہ مارچ میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی سامنے آیا تھا جب مقدمے کی سماعت معطل کر دی گئی تھی۔بنجمن نیتن یاھو کو درپیش قانونی مسائل جن کا آغاز تقریباً 10 سال قبل تحقیقات سے ہوا تھا، اسرائیلیوں کے درمیان تقسیم اور سنہ 2019ء سے سنہ 2022ء کے درمیان پانچ انتخابی دوروں کے دوران سیاسی میدان میں عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔ واضح رہے کہ سنہ 2019ء میں ہی ان کے خلاف فردِ جرم جاری کی گئی تھی۔اگلے انتخابات اکتوبر سنہ 2026ء کے آخر تک متوقع ہیں جبکہ بنجمن نیتن یاھو رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔بنجمن نیتن یاھو رواں ہفتے دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے کیونکہ سنہ 2020ء میں شروع ہونے والے مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ وہ پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں جن پر عہدے پر رہتے ہوئے مجرمانہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔












