لکھنؤ،سماج نیوز سروس: ’اطلاع‘ کو ’خبر‘ بنانے کے لئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ کے پاس کہیں سے کوئی خبر آئے تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا خبر اس لائق ہے کہ اسے شائع یا نشر کیا جائے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خبر بھیجنے والا اس کے ذریعہ صرف اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہو۔ خبرسازی کے پیش نظر آپ کا مقصد عوامی مفاد ہونا چاہئے نہ کہ کسی ذاتی مقصد کی تکمیل۔ ان خیالات کا اظہار معروف صحافی و کالم نگار معصوم مرادآبادی نے کیا۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شعبہ صحافت کے طلبہ سے خطاب کر رہے تھے۔واضح رہے کہ محترم معصوم مرادآبادی اپنی تازہ ترین کتاب ’’ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی: قائد ملت، مسیحائے قوم‘‘ کے اجرا کے سلسلہ میں لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی قائم کردہ مجلس تحقیقات و نشریات (دارالعلوم ندوۃ العلماء ) کے انچارج مولانا کلام الدین ندوی نے ذمہ داران کے مشورہ سے انھیں مجلس کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی جسے انھوں نے بخوشی قبول کیا۔ کلام الدین صاحب نے کچھ اہم کتابیں بھی انھیں ہدیہ کیں۔ اس موقع پر بڑی کارآمد گفتگو ہوئی۔ مفکر اسلام کے مکتوبات جو چھ جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں اور ساتویں جلد کی تیاری ہو رہی ہے، وہ بھی زیر گفتگو آئے تو معصوم صاحب نے بتایا کہ ان کے پاس بھی حضرت کے کچھ خطوط ہیں۔ انھوں نے خطوط کی کاپی بھیجنے کا بھی عدہ کیا۔ اسی مناسبت سے شعبہ صحافت و لسانیات کا بھی انھوں نے دورہ کیا اور شعبہ کے طلبہ سے خطاب کیا۔ انھیں صحافت کی باریکیاں بتائیں، اپنی زندگی کے کچھ تجربات بیان کئے اور طلبہ کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ جس میدان میں قدم رکھنے جا رہے ہیں اسے ایک طرح سے میدان کارزار کہہ سکتے ہیں، اس میں کامیابی اور نیک نامی کے لئے اچھی معلومات، اچھے کردار کے ساتھ جرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے اخبارات بھی پڑھیں اور انگریزی اخبارات کے اداریوں کا بھی پابندی سے مطالعہ کریں۔ واضح رہے کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا ایک سالہ صحافت کا کورس عا لمیت سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے ہوتا ہے۔ اب تک یہاں سے کئی بیچ نکل چکے ہیں اور طلبہ کی رہنمائی کے لئے ماہرین اور بڑے صحافیوں کے محاضرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ معصوم مرادآبادی سے ملاقات کرکے طلبہ نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔ آخرمیں شعبہ صحافت و لسانیات کے انچارج ڈاکٹر عبیدالرحمن ندوی نے معصوم مرادآبادی کا شکریہ ادا کیا۔












