نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج : جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کا وفد ۶؍ مئی کی شام صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی مولانا محمد قاسم نوری کی قیادت میں مشرقی دہلی کے علاقہ ترلوک پوری، گلی نمبر 32 پہنچا، جہاں حالیہ دنوں میں پیش آئےافسوسناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والے 16 سالہ ایان سیفی کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ وفد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی جانب سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وفد نے ایان سیفی کی بیوہ والدہ اور نانی سے ملاقات کی، جو واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شدید غم و اضطراب میں ڈوب گئیں۔ اس موقع پر مولانا محمد قاسم نوری نے اہل خانہ کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء اس مشکل اور صبر آزما گھڑی میں پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن قانونی و سماجی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ وفد نے قانونی کارروائی کی تفصیلات بھی حاصل کیں، جس کے مطابق مقدمہ کرکڑڈوما کورٹ میں زیر سماعت ہوگا۔جمعیۃ علماء کے وفد نے مقامی پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ اس سنگین معاملہ کو معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ وفد نے کہا کہ ایک بیوہ ماں کا اکلوتا سہارا بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، اور وہ بھی بغیر کسی جھگڑا اور اشتعال کے۔ اس لیے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت ترین قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مقتول کے خاندان کو انصاف دلانا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے،نیز ان کی والدہ کو معقول معاوضہ بھی دیا جائے تا کہ وہ اپنی زندگی گزر بسر کرسکیں۔ ملاقات کے دوران والدہ اور نانی شدتِ غم سے آبدیدہ ہوگئیں، جس پر مولانا قاسم نوری نے انہیں صبر کی تلقین کی اور فوری طور پر مالی امداد بھی پیش کی۔ ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ بھی ان کی مستقل مدد کے لیے باقاعدہ نظام بنایا جائے گا۔ ایان سیفی جامعہ ہدایہ، جے پور کا طالب علم تھا اور قرآن کریم کے کئی پارے حفظ بھی کرچکا تھا۔ اہل خانہ اور عینی شاہدین کے مطابق 30 اپریل کی شام وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا کہ اسی دوران 6 سے 8 افراد پر مشتمل ایک گروہ وہاں چاقو لے کر داخل ہوا اور اس پر حملہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آوروں نے ایان کا تعاقب کیا اور اسے متعدد مقامات پر چاقو مارے۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ حملہ کے دوران مذہبی نوعیت کے نعرے اور اشارے بھی کیے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایان کو شدید زخمی حالت میں لال بہادر شاستری اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں اسے ایمس ٹراما سینٹر ریفر کیا گیا، جہاں دورانِ علاج اس کا انتقال ہوگیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایان نے ہوش میں آنے کے بعد بعض حملہ آوروں کے نام بھی پولیس کو بتائے تھے، جن کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔جمعیۃ علماء کے وفد نے مقامی ذمہ داران اور قریبی مسجد کے امام مولانا بلال قاسمی سے بھی ملاقات کی اور متاثرہ خاندان کی مسلسل دلجوئی اور تعاون پر زور دیا۔وفد میں صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی مولانا محمد قاسم نوری، ناظم اعلیٰ مولانا آفتاب عالم صدیقی، جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا عظیم اللہ صدیقی، قاری عبدالرحمن معاون دفتر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مقامی ذمہ دار محمد ریحان اور مولانا بلال قاسمی شامل تھے۔












