دیوبند،سماج نیوز زسروس: جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں ملک کی قد آور شخصیت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ایک استقبالہ پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر جامعہ امام محمد انور شاہ کے استاذ حدیث اور ماہنامہ محدث عصر کے نائب مدیر مولانا سید فضیل احمد ناصری نے نظامت کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا ۔ مولانا ناصری نے اپنی تعارفی تقریر میں کہا کہ مہمان مکرم مناظر اسلام مولانا محمد منظور نعمانی کے صاحبزادے ہیں اور دارالعلوم ندود علماء لکھنو کے فاضل ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی سند لی ہے۔ مولانا ناصری نے مزید کہا کہ مولانا کے والد امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشید تھے اور ان کے مرید بھی تھے۔ مولانا منظور نعمانی کو اپنے جلیل القدر استاد سے اس قدر محبت و عقیدت تھی کہ ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔ مولانا ناصری نے جامعہ امام محمد انور شاہ کا مختصر تعارف بھی کرایا اور اس کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جامعہ فخر المحدثین مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے۔ یہ ادارہ امام العصر علامہ کشمیری کے علوم کی اشاعت کے لیے قائم ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تحقیقی اکیڈمی سے بڑھ کر ملک کے سرکردہ تعلیمی ادارے کی حیثیت سے متعارف ہو گیا۔ اس کی خدمات جاری ہیں۔ مہمان خصوصی مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ اس وقت دنیا کی ہر قوم بے اطمینانی کا شکار ہے، خواہ وہ یہودی ہوں یا عیسائی۔ ہندو ہوں یا بدھسٹ۔ سب تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ دنیا تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مدارس اسلامیہ میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ ابتدائے اسلام سے اسی لیے رکھا گیا ہے تاکہ دنیا کی نبض رواں عوام پر نظر رکھ کر اسلام کی عالمگیر اور انقلاب آفریں تعلیم سے امت کو فیض یاب کریں۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ حضور علیہ السلام کو اللہ تعالی نے صرف مسلمانوں کا نبی نہیں بنایا، بلکہ ساری کائنات کے لیے رہبر بنا کر بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے انہیں رحمۃ للمسلمین نہیں، رحمۃ للعالمین کہا۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حقیقت سے آشنا ہوں۔ اپنے مقام و مرتبہ سے آگاہ ہوں۔ اپنے فارغ وقت کو گراں قدر بنائیں۔ اپنے اساتذہ، اپنی کتابوں اور علم کے تمام ذرائع کا احترام کریں۔ مطالعے کو اپنا سکون، اپنی راحت بنائیں۔ مجھے بہت سخت حیرانی ہوتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ طلبہ درس گاہوں میں موبائل لے کر حاضر ہوں اور ان کی توجہ اساتذہ کی تقریروں کے بجائے موبائل کی اسکرین پر ہو۔ یہ بڑی گھٹیا حرکت ہے۔ مولانا نعمانی نے مزید کہا کہ دنیا رہبر کی منتظر ہے اور امت پیاسی چل رہی ہے۔ جب وہ کسی عالم دین کو دیکھتی ہے تو اس کے دل کو قرار آتا ہے اور سوچتی ہے کہ ہمارا مسیحا آ گیا ہے، یہ میرے مسائل کو حل کر دیں گے۔ یہ ہماری صحیح رہنمائی کر دیں گے۔ اگر ہم ان کی آرزو پر کھرے نہیں اتریں گے تو یہ ہمارے لیے الم ناک بات ہوگی۔ اس موقع پر مولانا ابوطلحہ اعظمی، مولانا مفتی نثار خالد، مولانا نوید، مولانا محمد سعید، مولانا وصی، مولانا شبیر اور مولانا بدر الاسلام بھی موجود رہے مہمان مکرم کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔












