محمد زاہد امینی
نوح،میوات،31جنوری،سماج نیوز سروس:علاقہ میوات میں اردو زبان کے تئیں عوام میں اری پیدا کرنے کے مقصد سے ’تنظیم فروغ اردو میوات‘ بہت جلد علاقہ سطح پر ایک’ مہم‘ کی شروعات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ علاقہ میں بدحال اس میٹھی و شیریں زبان کو فروغ دیا جاسکے۔واضح رہے کہ صوبہ ہریانہ کے دیگر اضلاع کی بات تو دور صوبہ کا مسلم اکثریت علاقہ میوات میں بھی تہذیب کی یہ زبان آج مکاتب و مدارس تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
سابقہ کانگریس حکومت میں صوبہ میں پہلی دفعہ شروع کی گئی اردو ٹیچرز تقرری کے عمل سے آج تک علاقہ کے سرکاری اسکولوں میں جن اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے وہ طلباءکے حساب سے ’اونٹ کے منھ میں زیرہ ‘ کے مساوی ہے ۔علاقہ کے ایک محبان اردو نے بتایا کہ علاقہ کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ 2012 میں کانگریس حکومت کے ذریعہ کمشنری سطح پر کی گئی اردو کی اسپیشل بھرتی میں تقرر ہوئے اساتذہ کرام آج الیف ب ت کی جگہ ک کھ گا پڑھا رہے ہیں ۔ ان اساتذہ کے لیے حکومت آج تک نصاب تک تیار نہیں کر سکی ہے ۔ گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول شکراوہ میںتعینات اردو لیکچرر و تنظیم فروغ اردو میوات کے صدر مولانا محمد صدیق سنابلی نے بتایا کہ مذکورہ مسائل کو لیکر ہی 2سال قبل ’تنظیم فروغ اردو میوات‘ کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ انہوںنے بتایا کہ قلیل عرصے میں ہی تنظیم کے علاقہ میں خاتر خواہ نتائج سامانے آئے ہیں ۔تنظیم جہاں ٹی جی ٹی و پی جی ٹی سطح پر اردو اسااتذہ کی بھرتی نکلوانے میں کامیاب ہوئی ہے وہیں اپنی فکر و پیغام کو صوبہ کے اعلیٰ حکام تک پہنچانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اسی تناظر میں اب تنظیم ایک’ علاقہ گیر مہم ‘ شروع کرنا چاہتی ہے جس کے تحت تنظیم کے کارکنان نہ صرف گاو¿ں گاو¿ں پہنچ کر عوام کو اردو کے تئیں بیدار کریں گے بلکہ اردو زبان میں سنہرے مستقبل کے بارے میں نسل نو کو جانکاری دینے کا کام بھی کریں گے۔












