رضوان سلمانی
دیوبند، مسےح الملک حکےم اجمل خان کی ےوم پےدائش جامعہ طبیہ میڈیکل کالج دیوبند اور دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں یونانی ڈے کے طور پر منایا گیا جس میں کالج کے اساتذہ اور طلبہ وطالبات نے حصہ لیا ۔ اس موقع پر جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر اختر سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جو ہم یونانی ڈے منارہے ہیں یہ سب کے لئے فخر کی بات ہے۔ ہندوستانی حکومت نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں ؒ کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے نیشنل یونانی ڈے کے دن کا اعلان کیا جو پورے ملک میں یہ روز یونانی ڈے کے طور پر منایا جارہا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ آج دیکھا جائے تو انڈین سسٹم آف میڈیسین انفرادی طور پر یونانی اور آیورویدک سسٹم اپنے عروج پر ہے ۔ جگہ جگہ یونانی سیمینار کئے جارہے ہیں ، لوگ علاج بالتدبیر کو چاہے کپنگ کی شکل میں یا ریاضت کی شکل میں اختیار کررہے ہیں، کہیں مفردات پر بحث ہورہی ہے تو کہیں مرکبات پر بات ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی یونانی سسٹم کی افادیت کو محسوس کیا اور اسی وجہ سے یونانی سسٹم کو زیادہ نمایاں اور پبلسٹی کی غرض سے حکومت ہند نے سال میں ایک دن نیشنل یونانی ڈے کے نام سے منسوب کردیا ہے۔ ڈاکٹر اختر سعید نے مسےح الملک حکےم اجمل خاں کی حےات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اجمل خاں حکےم ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر تعلےم اور مجاہد آزادی تھے ۔انہوںنے کہا کہ اجمل خاں نے مہاتما گاندھی اور اس وقت کے انگرےز افسران کا علاج بھی کےا تھا ۔انہو ں نے کہا کہ حکےم اجمل خاں جن کا آج ہم ےوم پےدائش منا رہے ہےں وہ تعلےم کی اہمےت اور افادےت کو سمجھ چکے تھے ساتھ ہی انہوںنے طب ےونانی کو فروغ دےنے کے لئے دہلی کے قرول باغ مےں طبےہ کالج کا قےام کےا جس مےں طب ےونانی کی تعلےم کے ساتھ ساتھ طب ےونانی پر ریسرچ کا کام بھی ہوتا تھا ۔انہوںنے کہا کہ حکےم اجمل خاں کی ےوم پےدائش عالمی ےوم ےونانی کے طور پر منا کر ان کی خدمات کا اعتراف کےا جاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ حکےم اجمل خاں اپنے وقت کے بڑے مشہوحکےم تھے ۔وہ مجاہد جنگ آزادی بھی رہے ۔انہوںنے طب ےونانی سے علاج کو فوقےت اور اہمےت بخشی اور اسے پورے عالم مےں شہرت دلوائی ۔طب ےونانی سے متعلق افراد کو ان کے اس اثاثہ کی حفاظت کرنی ہے بلکہ ا سکے فروغ کے لئے حکےم اجمل کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے طب ےونانی سے علاج کو کامےابی کی بلندی پر بھی پہنچانا چاہئے۔ڈاکٹر اختر سعید نے دلائل کے ساتھ ےہ بات کہی کہ طب ےونانی کو کسی زمانے مےں ےونان مےں پرموٹ کےا گےا لےکن ہندوستان مےں آکر ےہ ہندوستانی تہذےب اور ہندوستانی آ ب و ہوا مےں اس قدر رچ بس گئی اور اس مےں وہ کےفےاتی تغےرات واقع ہوئے کہ اب ےہ طب اپنی رخ کے اعتبار سے خالصتاً ہندوستانی طب ہے ۔ڈاکٹر اختر سعیدنے وہاں پر موجود طلبہ کو ےونانی طرےقۂ علاج کے نکات بتائے اور قوت مدافعت مےں اضافہ کے لئے طب ےونانی مےں استعمال ہونے والی مفردات کے خواص بتائے ۔انہوںنے ےونانی کی تعلےم حاصل کرنے والے طلبہ کو ےونانی پےتھی کو اختےار کرنے کی صلاح دی ۔انہوںنے کہا کہ کورونا کے دور مےں بھی لوگوں کو سب سے فائدہ ےونانی ادوےات سے ہی ہواہے اور اس بات کو حکومت نے بھی تسلےم کےا ہے ۔ڈاکٹر اخترسعید نے ےونانی معالجےن سے اپےل کرتے ہوئے کہا کہ ہو بھی ےونانی داوئےوں کو فروغ دےنے کے لئے مرےضوں کو زےادہ سے زےادہ ان دوائےوں کے استعمال کرنے کی صلاح دےں ،تاکہ طب ےونانی کو مزےد فروغ دےا جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ حکےم اجمل خاں بہت دور اندےش شخصےت تھے اور آج سے 100برس قبل ہی انہوںنے تعلےم کی اہمےت کو بخوبی سمجھ لےا تھا اور اسی سلسلہ مےں طبےہ کالج بچوں کا گھر جامعہ ملےہ اسلامےہ جےسے ادارات کو قائم کےا ۔حکےم صاحب گنگا جمنی تہذےب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پےروکار تھے اور بلا تفرےق سب کو ساتھ لے کر چلنے کے حامی تھے ۔ اس موقع پر کالج کے پرنسپل ناصر علی خان، ڈاکٹر محمد فصیح، ڈاکٹر فخر الاسلام، ڈاکٹر رشدہ سعیدی، ڈاکٹر محمد اعظم عثمانی، ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر جویریہ ہاشمی وغیرہ نے بھی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی زندگی پر روشنی ڈالی ۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر احتشام الحق صدیقی نے کی، اس دوران جمشید انور، عامر سعیدی، صہیب علی، ڈاکٹر شبلی اقبال، جاوید، بلال، عظیم وغیرہ موجود رہے۔ دوسری جانب دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں بھی حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش پر پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر ادارہ کے پروفیسر ڈاکٹر افضال احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم اجمل خاں نہ صرف ایک طبیب تھے بلکہ اس وقت میں ہندو مسلم یک جہتی کے بڑے علمبردار تھے ۔ انہوں نے آزادی کی تحریک میں ہندو مسلم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ حکیم صاحب نے اپنی فنی وطبی خدمات سے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی ڈنکا بجایا تھا۔ آج ان کی یوم پیدائش ہے ا س لئے ہم سب اس کو یونانی ڈے کے طور پر مناتے ہیں ۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد اسلم نے حکومت ہند اور اترپردیش حکومت کے ذریعہ یونانی طب کے لئے کئے جارہے ترقیاتی کاموں کی حوصلہ افزائی کی تفصیل بتاتے ہوئے آیوش کے لئے کی جارہی کوششوں کی تعریف کی اور سرکار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکیم اجمل خاں کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم عملی زندگی میں طب یونانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ڈاکٹر نور عالم ، ڈاکٹر وسیم، ڈاکٹر امتیاز، ڈاکٹر عبدالمعید نے بھی حکیم اجمل خاں کی سوانح حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی خدمات سے آگاہ کیا اور ان کو بطور طبیب استعمال کرنے کی نصیحت کی ۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ارشاد نے کی ، پروگرام کا آغاز حکیم شفیع الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس موقع پر ڈاکٹر طاہر حسن، ڈاکٹر عرفان، ڈاکٹر خالد، ڈاکٹر سیفل، ڈاکٹر فیصل، محمد یاسر، ڈاکٹر ہلال، محمد فرقان اور اسٹاف موجود رہا۔












