نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کو دہلی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ دسمبر2021 میں ہندو یووا واہنی کے ایک پروگرام میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کی تحقیقات کے بعد 4 اپریل کو دہلی پولس کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ کے سلسلے میں ضابطہ فوجداری کے طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھائے۔اس سے قبل دہلی پولس نے عدالت کو بتایا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کیس کی تحقیقات ایک ’اعلی مرحلے‘ پرہیں۔یہ حکم ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کے پولس کے لئے عدالت کو چارج شیٹ داخل کرنے کی اطلاع دینے کے بعد آیا ۔بتا دیں کہ دسمبر 2021کے ہندو یووا واہینی ہیٹ اسپیچ معاملے میں پولس نے ساکیت کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے ۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پولس نے ہیٹ اسپیچ معاملے میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے ۔لائو لا اور دی ہندو کی خبر کے مطابق اس دوران درخواست گزار تشار گاندھی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل شادان فراسات نے استدعا کی کہ پولس چارج شیٹ کی کاپی عدالت عظمیٰ میں ریکارڈ پر رکھے۔انہوںنے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ دسمبر 2021 کا ہے۔ جب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد مئی میں ہی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے چارج شیٹ داخل کرنے میں نو ماہ کا وقت لیا۔ مسٹر نٹراج نے کہا کہ اگر مجسٹریٹ نے چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے توانکو بھی ایک کاپی فراہم کرنی چاہئے۔اس دوران بنچ نے کہا کہ مجسٹریٹ کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے دہلی کے اس وقت کے پولس کمشنر راکیش استھانہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کو بھی نمٹادیا۔مسٹر فراست نے توہین عدالت کی درخواست میں دلیل دی تھی کہ تحسین پونا والا کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت کی کھلی خلاف ورزی ہوئی ہے جس میں عدالت نے کہا تھا کہ پولس کو ایسے واقعات کو ہونے سے روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں۔پچھلے سال اپریل میں، دہلی پولس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ دہلی دھرم سنسد کے پروگرام میں نفرت انگیز تقریر کی کوئی مثال نہیں ہے اور نہ ہی ’’نسلی صفائی کے لیے مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلی کال‘‘ ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں جسٹس کے ایم جوزف نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 21ویں صدی میں یہ ’’افسوسناک ہے کہ ہم نے مذہب کو کتنا معمولی سمجھ لیا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’ملک میں نفرت کا ماحول ہے‘‘، جبکہ پولس اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں اور فرقہ وارانہ تشددکے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کریںنیز فوری طور پر شکایت درج ہونے کا انتظار کیے بغیرمقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔












