نئی دہلی، گجرات فساد متاثرہ بلقیس بانو کے مقدمہ میں 11مجرموں کی رہائی کے خلاف ایک عرضداشت پر آج بروز منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جس میں عدالت عالیہ نے 11مجرموں کی رہائی کی گجرات حکومت سے وجہ دریافت کی،اور اس تعلق سے کچھ تلخ تبصرہ بھی کئے ۔سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے پوچھا کہ بلقیس بانو کیس میں عمر قید کے مجرموں کو وقت سے پہلے رہا کرنے کے اس کے فیصلے کی وجہ کیا ہے۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی ڈویزن بنچ نے کہا کہ جب معاشرے کو بڑے پیمانے پر متاثر کرنے والے ایسے گھناؤنے جرائم کے استثنیٰ پر غور کیا جا رہا ہے تو عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے۔اس میں کہا گیا ہے کہ صرف اس لیے کہ مرکزی حکومت نے ریاست کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست کو اپنا دماغ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔جسٹس کے ایم جوزف نے کہا کہ آج بلقیس بانو ہے، کل آپ یا مجھ میں سے کوئی ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں طے شدہ معیارات ہونے چاہئیں۔ اگر آپ ہمیں وجہ نہیں بتاتے تو ہم اپنا نتیجہ نکال لیں گے۔ جج نے کہا کہ عصمت دری اور اجتماعی قتل سے جڑے معاملوں کا موازنہ قتل کے سادہ کیس سے نہیں کیا جا سکتا۔اس دوران عدالت نے مجرموں کی سزائے قید اور ان کے پیرول کی میعاد کا بھی جائزہ لیا اور حیرانی ظاہر کی۔دوسری جانب عدالت کے استفسار پر گجرات حکومت نے مجرموں کی رہائی سے متعلق فیصلے کی فائل دکھانے سے انکار کردیا۔گجرات حکومت نے دلیل دی کہ اس معاملہ میں رہائی سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہی کی گئی ہے۔اس پر عدالت عالیہ نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیب کا موازنہ سنترے سے نہیں کیا جا سکتا، اگر حکومت نے کوئی پختہ وجہ بیان نہ کی تو عدالت عظمیٰ خود نتیجہ اخذ کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں 2 مئی کو آخری سماعت کریگا۔عدالت نے کہا کہ جب ایسے گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں جو معاشرے کو بڑے پیمانے پر متاثر کرتے ہیں تو کسی بھی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عوامی مفاد کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاستی حکومت کو اپنا دماغ لگانے کی ضرورت نہیں! جسٹس کے ایم جوزف نے کہا کہ آج بلقیس بانو ہے، کل آپ یا مجھ میں سے کوئی ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں طے شدہ معیارات ہونے چاہئیں۔ اگر آپ ہمیں وجہ نہیں بتاتے تو ہم اپنا نتیجہ نکال لیں گے۔یاد رہے کہ مجرموں کی رہائی کے تعلق سے جب گجرات حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تب جسٹس رستوگی کی سربراہی والی بنچ نے مئی 2022 میں فیصلہ دیا تھا کہ گجرات حکومت کو استثنیٰ کی درخواست پر غور کرنے کا اختیار ہے کیونکہ یہ جرم گجرات میں ہوا تھا۔ اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے بلقیس بانو کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست کو سپریم کورٹ نے دسمبر 2022 میں خارج کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ متاثرہ بلقیس بانو کے علاوہ سماجی کارکن سبھاشنی علی اور ٹی ایم سی کی لیڈر مہوا موئترا نے اس معاملے کے قتل اور اجتماعی عصمت دری کے 11 مجرموں کو رہا کرنے کے گجرات حکومت کے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ان مجرموں کو رہا کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلہ کی مرکزی حکومت نے بھی تائید کی تھی اور رہا ہونے کے بعد ان تمام مجرموں کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال بھی کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ اس دوران سال 2002 میں بلقیس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے خاندان کے 7 افراد کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں 21 جنوری 2008 کو عدالت نے 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور یہ تمام لوگ تبھی سے جیل میں قید تھے۔ گجرات حکومت نے ان سبھی کو گزشتہ سال 15 اگست کے موقع پر معافی دیتے ہوئے رہا کر دیا تھا۔ریاستی حکومت کے رہائی والے فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔












