نئی دہلی، راہل گاندھی کو سورت سیشن کورٹ سے بھی راحت نہیں ملی اور سیشن کورٹ کے جج نے بغیر وقت لئے اور کسی بھی تبصرے کےبغیر پٹیشن کو خارج کر دیا ۔حالانکہ ہتک عزت کے معاملے میں راہل گاندھی کے پاس ابھی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینے کا آپشن موجود ہے لیکن شاید اب وقت نہیں ہے ۔واضح ہو کہ بی جے پی کے گجرات سے ایم ایل اے پرنیش مودی نے راہل گاندھی پر ہتک عزت کا معاملہ درج کرایا تھا ۔مودی لقب کے بارے میں کانگریس لیڈر پر ان کے تبصرے کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس پر سورت کی ایک نچلی عدالت نے 23 مارچ کو انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے دو سال کی سزا سنائی تھی۔مسٹر گاندھی کیرالہ کی وایناڈ سیٹ سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ تھے ۔ نچلی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی گئی۔ 3 اپریل کو ان کے خلاف فیصلہ آنے کے دن ہی مسٹر گاندھی کو سورت کی سیشن کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔ اس کے بعد اس نے اپنی سزا اور سزا پر روک لگانے کے لیے دو درخواستیں دائر کی تھیں جنہیں آج عدالت نے خارج کر دیا۔
سیشن کورٹ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد مسٹر راہل گاندھی کے پاس اب گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا آپشن ہے۔ لیکن وقت بہت کم ہے۔ آج جب سیشن کورٹ نے ان نکی درخواست کو خارج کیا ہے ۔اس کے بعد صرف 21اپریل کا وقت ہے۔ 22اپریل کو پولس انہیں گرفتار کر سکتی ہے۔ عدالت نے سزا سناتے وقت بھی انہیں یہی کہا تھا کہ آپ کے پاس سیشن کورٹ،ہائی کورٹ یا پھر سپریم کورٹ جانے کا یہی ایک ماہ کا وقت ہے جو 21اپریل کو ختم ہو رہا ہے ۔
اب تازہ صورت حال پر جہاں بی جے پی بغلیں بجا رہی ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ عدالت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے راہل گاندھی کو ان کے کئے کی سزا دے دی۔ لیکن دوسری طرف سیاسی مبصرین اسے کانگریس کیلئے بہت بڑی کامیابی مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار راہل گاندھی کے جیل جاتے ہی ان کی مقبولیت میں چار چاند لگ جائے گی اور سامنے کھڑے کرناٹک کے اسمبلی انتخاب میں جہاں راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف بہت اونچا ہے۔ بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی اس فیصلے کی توقع کر رہے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوٹس ملتے ہی اپنا مکان خالی کر دیا ۔تو کیا سچ مچ کیس ہار کر بھی جیت گئے راہل گاندھی یا پھر یہ کہا جائے کہ راہل گاندھی ہارے ہیں لیکن کانگریس جیت گئی ہے۔












