دیوبند، نوجوان لیڈر ساحل خان کو بی ایس پی نے پارٹی سے نکال دیاہے، انہوںنے نکوڑ نگر پالیکا سیٹ سے اپنے والدخالد خان کا آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا،جس کے بعد پارٹی نے یہ کارروائی کی ہے۔سہارنپور میں سابق چیئرمین خالد خان کے بیٹے ساحل خان کسی بھی پارٹی میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ جس پارٹی میں بھی شامل ہوئے، انہیں اس پارٹی سے ہی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایس پی چھوڑ کر بی ایس پی میں شامل ہونے والے ساحل کو ٹکٹ ملا تھا۔ اب بی ایس پی نے بھی انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر پارٹی سے نکال دیا ہے۔ساحل خان ہمیشہ سے باغیانہ رویہ کا حامل رہے ہیں۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایس پی میں تھے۔ پھر انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو انہوں نے ایس پی سے بغاوت کر دی۔ بی ایس پی میں شامل ہوئے اور نکوڑ ودھان سبھا سے بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ہار گئے۔ اسی وقت، شہری انتخابات میں، وہ اپنے والد سابق چیئرمین خالد خان کے لیے نکوڑ میونسپلٹی کی چیئرمین شپ کے لیے ٹکٹ کے خواہاں تھے۔لیکن پارٹی نے ان کی ایک نہ سنی اور نکوڑ سے محمد اسلام جراح کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ ساحل نے بی ایس پی میں بھی باغی رویہ دکھایا اور اپنے والد کا آزاد امیدوار کے طورپر پرچہ داخل کرایا۔ بی ایس پی کے مقامی لیڈروں پر ٹکٹ کے بدلے بھاری رقم مانگنے کا الزام ہے، جس کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔جہاں اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی میں عمران مسعود سماجوادی پارٹی میں ان کے ٹکٹ کٹنے کا سبب بنے تھے وہیں اب بی ایس پی میں وہ ان پر بھاری پڑے ہیں۔












