کرسی کو حاصل کرنے کی خواہش تو ہر دل میں مچلتی ہے، کرسی پر بیٹھ کر اس قدر رعب آجاتا ہے کہ گویا کرسی پر بیٹھنے والا صاحب بہادر ہے اور باقی سب اس کے ماتحت، حالانکہ کرسی بیچاری تو بے جان ہوتی ہے، اصل طاقت تو ا ن اختیارات میں میں ہوتی جو کرسی پر بیٹھ کر ملتے ہیں۔ لیکن کچھ کرسیاں ایسی بھی ملتی ہیں جن پر بیٹھ کر بندہ بے اختیار ہوتا ہے، خیر اختیارات اور بے اختیاری کی جنگ ایک توجہ طلب موضوع ہے، ہم تو یہ بتانے جارہے ہیں کہ کرسی بنانے والے نے تو کرسی بیٹھنے کیلئے بنائی ہوگی مگر اسے کیا پتا تھا کہ کرسی کی بے شمار اقسام تیزی سے دنیا میں پھیل جائینگی۔ کمزور کرسی ، مضبوط کرسی، بڑی کرسی، چھوٹی کرسی، گھر کی کرسی ہو یا حکومت کی ، عام آدمی کی کرسی ہو یا خاص آدمی کی، مولوی کی کرسی ہو یامدرس کی، کرسی کابینہ کی ہو یا کالے بازار کی، کرسی کرسی ہوتی ہے۔ کرسی دیکھ کر آپ بندے کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں، آگر آپ کو عہدے کے متعلق جانناہو تو پوچھ لیںبندہ کس کرسی پربیٹھاہے، آرام دہ کرسی واقعی آرام دہ ہوتی ہے لیکن کرسی اتنی آرا م دہ نہیں ہونا چاہئے کہ بندہ پھیلتا ہی چلا جائے۔ بعض کرسیاں ایسی خاصیت رکھتی ہیں کہ بندہ ان پر بیٹھ کر اکڑ جاتا ہے، اس میں بندے کا کیا قصور ، سارا قصور کرسی کا ہوتا ہے، ایسی کرسی جس کے چاروں طرف لوگ گھوم رہے ہوں اس پر بیٹھ کر معمولی انسان بھی اپنے آپ کو مافوق الفطرت ہستی سمجھنے لگتا ہے۔
قارئین محترم! ہماری روز مرہ کی زندگی میں بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو بظاہر تو بے جان ہوتی ہیںلیکن وہ نہایت اہمیت کے حامل ہوتی ہیں، درجہ بدرجہ اس کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے، ان ہی بے جان چیزوںمیں سے ایک کرسی بھی ہے، کرسی کاہماری زندگی میں بہت اہم کردار ہے، اس کی اہمیت ہر شخص کی نظر میں مختلف ہوتی ہے، ایک دکاندار کی نظر میں اس کی اہمیت اور ہے، آفس میں کام کرنے والے شخص کی نظر میں اور ہے اور ہمارے وزراء کی نظر میں اس کی اہمیت اور ہے۔ کرسی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ فانی چیزوںمیں سے ایک ہے، کہتے ہیں کہ کرسی فرعون صاحب کی ایجاد ہے(صاحب اس لئے لگایا ہے کہ آج کل کے فرعونوں کے نام کے ساتھ بھی لگتا ہے)شاید یہی وجہ ہے کہ جب سے کرسی ایجاد ہوئی ہے اس کا اور فرعونیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہوا یوں کہ جب فرعون غرور اور تکبر کی علامت بنا تو قدرت نے مرنے کے بعد اسے عبرت کی نشانی بنادیا، مگر کرسی ویران نہیں رہی بلکہ اس کے بعد بھی کئی لوگ آئے، اس کرسی پر بیٹھے، اقتدار اور اختیار کے نشے میں فرعونیت اختیار کی اور نشان عبرت بنتے چلے گئے، کچھ تو فرعون سے بھی آگے نکل گئے۔ یوں تو کرسی کا کوئی مول نہیں مگر کرسی پر براجمان ہونے والا انمول بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شراب کا نشہ تو کبھی نہ کبھی اتر ہی جاتا ہے مگر کرسی کا نشہ جب اتر تا ہے تو آدمی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے۔ یہ کرسی بھی بڑے کام کی چیز ہے، اس پر بیٹھ کر عوام کا خیال رہے نہ رہے جانوروں کا ضرور خیال ہوتا ہے، لوگ بھلے ہی بھوکے مر جائیںمگر جانوروں پر پستہ بادام ضرور ملنے چاہئے، ان کے لئے جانوراہم ہے لیکن عوام اتنی اہم نہیں۔
جس کے پاس کرسی ہو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ جلد از جلد ملک کا خزانہ ، مسجد کا خزانہ، مدرسہ کا خزانہ ، کسی تنظیم یا ادارے کا خزانہ اپنے اور اپنے عزیزوں کے نام پر باہر کے ملکوں کے بینکوںمیں جمع کردیںتاکہ ان سے جب کرسی چھن جائے تو فاقوں تک نوبت نہ آئے۔ شاید کرسی حاصل کرنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ کرسی کبھی بھی انسان کی وفادار نہیں ہوتی، ایک نہ ایک دن انسان کو یہ کرسی چھوڑنی ہی پڑتی ہے ۔ اگر آپ ضدی ہیں اور کرسی پر سے اتر نے کو تیار نہیں تو زبردستی گھسیٹ کر اتار دیئے جائینگے ورنہ کرسی الٹ دی جائیگی۔ بہرحال کرسیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ’’۱)عام کرسی۲)خاص کرسی‘‘عام کرسی پر تو انسان بیٹھا بیٹھا اکتا جاتا ہے، تھک جاتا ہے، کبھی کسی کا سہارا لیتا اور کبھی اٹھ جاتا ہے لیکن خاص کرسی کی کشش ایسی ہوتی ہے جس کو کسی کا بھی دل چھوڑنے کو نہیں کرتا اور وہ اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ کرسی واقعی میںبڑی عجیب چیز ہے یہ پاس نہ ہوتو آدمی روتا ہے، پاس ہوا اور چھن جائے تو بھی روتا ہے، کرسی پاس ہو تو آدمی نہ صرف خود ہنستا رہتا ہے بلکہ اس کے اہل وعیال ، اقربابھی ہنستے رہتے ہیںاور پرورش پاتے رہتے ہیں۔
کرسی کے نشے میں آج ہر کوئی گرفتا ہے کیونکہ کرسی کو وزیر ، سیاست داں، سرکاری افسران اور مولوی حضرات یکساں طور پر پسند کرتے ہیں اور یہ ہی نہیں تخت پر بیٹھنے کے عادی بھی اب تو کرسی فکر کرنے لگے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کرسی کی دوست نہیں ہوتی، آج جو کرسی کسی رہنما کے نیچے ہے کل وہ کسی اور کی ہوسکتی ہے، کرسی پر بیٹھنے والا شخص اگر دیانتدار ، باصلاحیت اور عوام دوست ہے تو یہی کرسی ملک میں امن ، خوشحالی اور انصاف لاسکتی ہے اور اگر اس کرسی پر ہوس پرست بیٹھے تو یہ کرسی ظلم ، ناانصافی اور کرپشن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ کرسی کی فکر میں اپنی نیند حرام کرنے والے لوگ کرسی پر بیٹھ کر کچھ اس طرح بدل جاتے ہیں کہ پہچاننے میں ہی نہیں آتے۔ سنا ہے کرسی پر بیٹھنے کا اپنا ہی مزہ ہے بلکہ چسکا ہے، لیکن جس طرح ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح کرسی پر بیٹھنے اور اٹھنے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ جی ہاں!ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب آپ کو کرسی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، اس لئے ایک بات یاد رکھیں، کرسی خطرناک بھی ہوسکتی ہے لہذا کرسی کا انتخاب احتیاط کے ساتھ کریںاور بہت سوچ سمجھ کر کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کرسی بھی ہاتھ سے جائیں اور عزت بھی ۔ ویسے اکثر یہی سنا گیا ہے کہ وہی آج کل صاحب عزت ہے جس کے پاس کرسی ہے ، اگر کرسی ہاتھ سے نکل گئی تو ؟ کیونکہ کرسی جب سے ایجاد ہوئی تب سے کرسی بیچاری بدنام ہے اس لئے اس سے جس حد تک دور رہا جائے بہتر ہے اس میں آپ کا فائدہ بھی ہے اور بھلائی بھی۔












