ممبئی، ونچت بہوجن مسلم اگھاڑی کے ترجمان عبدالباری خان نے پریس اعلامیہ میں بتایا کہ مسلم اگھاڑی کی جانب سے گوونڈی کے شیواجی نگر پولس اسٹیشن، دیونار پولس اسٹیشن اور دھاراوی پولیس اسٹیشن میں راج ٹھاکرے کے خلاف کریمنل مقدمہ درج کرنے کے اپنے مطالبے کو لیکر تحریری شکایت دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بروز پیر کو دادر کے امبیڈکر بھون میں ونچت بہوجن مسلم اگھاڑی نے راج ٹھاکرے کی شر انگیزی اور ماہم درگاہ سے منسوب خواجہ خضر کے چلہ کی انہدامی کاروائی اور ریاست کے حالات کے مدنظر قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں گوڈی پاڈوا پر راج ٹھاکرے کی مسلم مخالف شر انگیزی اور راج ٹھاکرے کے بیان پر بنا نوٹس ماہم درگاہ کے چلہ کے انہدام پر غور خوض کے بعد راج ٹھاکرے کے خلاف قانونی کاروائی کو لیکر ممبئی میں مقدمات درج کروانے اور چلہ کو غیر قانونی بتاکر بنا نوٹس کاروائی کرنے کے خلاف کورٹ سے رجوع کیا جانا طے ہوا۔
عبدالباری خان نے بتایا کہ راج ٹھاکرے نے 22 مارچ کو ممبئی کے شیواجی پارک ریلی میں کہا تھا کہ ماہم درگاہ کے پیچھے سمندر میں خواجہ خضر کا چلہ دو سال پہلے نہیں تھا انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ سمندر میں دوسراحاجی علی وجود میں آرہا ہے۔تیس دنوں کے اندر حکومت نے کاروائی نہیں کی تو ہندو وہاں گنیش بھگوان کا مندر بنائینگے۔ عبدالباری نے کہا کہ ٹھاکرے نے جھوٹ بیانی کی ہے اور ہندو مسلم دونوں سماج میں فساد کروانے کی کوشش کی ہے۔ یہ چلہ خواجہ خضر حیات النبی چلہ ٹرسٹ ماہم ممبئی کے طور پر اوقاف قانون 1995 کے مطابق رجسٹریشن نمبر2007/MSBW-37 کے تحت گزرے سولہ سالوں سے رجسٹرڈ ہے۔ اور زمانہ سے یہاں صرف ایک بیٹھک بنی ہوئی ہے کسی طرح کا کوئی تعمیری کام یا گنبد یا مزار نہیں ہے ڈسٹرکٹ کلکٹر کو کاروائی سے پہلے اس کی تفتیش کرنا چاہئے تھا اور پیشگی نوٹس دینا قانوناً لازمی تھا مگر رات کو راج ٹھاکرے نے بیان دیا اور دوسرے دن صبح بلڈوزر کے ذریعے انہدامی کاروائی کردی گئی کہ یہ سراسر داداگیری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کو بھی کورٹ میں گھسیٹا جائیےگا۔ مسلم اگھاڑی کی جانب سے گوونڈی کے شیواجی نگر پولس اسٹیشن، دیونار پولس اسٹیشن اور دھاراوی پولیس اسٹیشنوں میں راج ٹھکرے پر مقدمہ درج کرنے کی تحریری شکایتوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبئی مہاراشٹرا کے دیگر حصوں میں بھی شکایت درج کروائی جائیگی۔قانون نے اپنا کام نہیں کیا تو پورے ریاست میں زبردست مظاہرے کئے جائینگے۔












