آج رات میں ندوۃ الطلبہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے شعبہ بنین کے مرحلہ عالمیت کے تقریری انعامی مسابقہ میں صدر اجلاس کی حیثیت سے شریک ہوا، مسابقہ کا موضوع تھا: "مسلم نو جوانوں میں الحاد کا بڑھتا ہوا رجحان – اسباب وعلاج اس علمی پروگرام میں حکم کے فرائض جامعہ کے تین نہایت لائق و فائق اور میدان بحث و تحقیق کے شہسوار شیخ اسدالرحمن تیمی ، شیخ حبیب اشرف عمری مدنی، اور شیخ عامر سہیل تیمی صاحبان نے انجام دیا ، مرحلہ عالمیت کے تقریبا چودہ طلبہ نے اس مسابقہ میں حصہ لیا، الحمدللہ سارے طلبہ نے بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ اپنی تقاریر کو تیار کیا تھا، ساری تقریر یں علمی تحقیقی اور مواد سے پر تھیں ، ہر ایک طالب علم نے اپنے انداز میں تقریریں پیش کیں ، سب کی یہی خواہش تھی کہ اسے ہی پہلی پوزیشن حاصل ہو، اس طرح ہمیں تمام کی تقریر سننے اور ان سے مستفید ہونے کا حسیں موقع حاصل ہوا۔سلسلہ تقاریر کے ختم ہونے کے بعد ناظم پروگرام مطیع الرحمن محمد سافر طالب ثانیہ عالمیہ نے مجھ سے صدارتی کلمات پیش کرنے کی درخواست کی اور میں نے حمد و صلاۃ کے بعد اللہ تعالی کا شکر یہ ادا کیا کہ اس نے ایسے علمی پروگرام میں شرکت کا زریں موقع عنایت کیا اور اس لائق بنایا کہ علماء وطلبہ سے مخاطب ہو کر دین کی کچھ باتیں کر سکوں ، پھر ذمہ داران ندوہ کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیں اس لائق سمجھا کہ اس علمی مجلس کی صدارت کروں اور ایسے حساس و اہم موضوع پر خامہ فرسائی کروں ، اللہ تعالی ہم سبھوں کو حسن عمل کی توفیق عنایت کرے اور ہم سے جو بھی اعمال انجام پاتے ہیں ان کو اپنی طرف سے قبولیت کا درجہ عطافرما کر بہتر سے بہتر بدلہ عنایت کرے۔موضوع کے تعلق سے میں نے طلبہ کو بتایا کہ قیام دنیا کے وقت سے لے کر اب تک انسانوں میں خدا کے وجود اور اس کے خالق ومالک اور متصرف ہونے کا عقیدہ موجود رہا ہے، متعد د خداؤں کے قائلین بھی باری تعالی کی حاکمیت اور خلق وامر میں اس کے متفرد ہونے اور موت کے بعد اسی کی طرف پلٹ کر جانے کا عقیدہ رکھا کرتے تھے، لیکن منحرفین فطرت بھی ہر زمانے میں پائے گئے ہیں، تاریخ عالم سے واقف ہر ایک طالب علم کو پتہ ہے کہ بینائی اور بصیرت سے محروم اور وحی کی روشنی سے گریزاں افراد راہ زندگی میں صراط مستقیم سے دور چلے جاتے ہیں، انہیں سیدھا راستہ بھی دکھائی نہیں دیتا اور دو گم گشتہ راہ ہو جاتے ہیں۔ وہ ہموار راستوں پر بھی ٹھوکر کھا کر گر جاتے ہیں، کبھی کبھی تو وہ ضلالت و حماقت کے اندھیرے کنویں میں گر کر ہلاک ہی ہو جاتے ہیں، انہیں اس سے باہر آنے کا موقع ہی نہیں ملتا ، کچھ کی فطرت لوگوں کو سیدھا راستہ راس ہی نہیں آتا ہے اور وہ اپنی افتاد طبیعت کی بنا پر ہمیشہ عام روش سے ہٹ کر راہ کج تلاش کرتے ہیں اور ان معوج راہوں پر چلتے ہوئے کہیں دور نکل جاتے ہیں۔ تمام انبیاء کو اس قسم کے افراد سے سابقہ پڑا ہے، کچھ کلی الحاد کے قائل تھے جو وجود باری ، آخرت، حساب و کتاب اور جنت و جہنم میں سے کسی پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور کچھ اللہ پر اور اس کے خالق و مالک ہونے پر تو ایمان رکھتے تھے مگر دوبارہ اٹھائے جانے پر اور دنیوی اعمال کے پاداش میں جزا و سزا دئے جانے پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ جس وقت قرآن کریم کا نزول ہور ہا تھا اور اس کی تعلیمات سے دنیا میں انقلاب آرہا تھا اس وقت بھی ملحدین کی جماعت موجود تھی جو یہ دعوی کرتی تھی کہ بس دنیا ہی کی ایک زندگی ہے، آخرت کا کوئی تصور نہیں ہے، ہم خود پیدا ہوتے ہیں اور خود وقت پورا ہو جانے پر مر جاتے ہیں: (وقالوا ماهي الا حياتنا الدنيا نموت و نحيا و ما يهلكنا الا الدهر ) ( الجامع :24) اوائل اسلام میں خوارج، معتزلہ، اور باطنیہ جیسے فرقے ملحدانہ افکار ونظریات کے ساتھ ہی ظہور پذیر ہوئے، ان کے عقائدونظریات کو سمجھتے ہوئے ہم کہ سکتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے جو بھی شخص یا اشخاص دین کے کسی اصل یا اصولوں کا انکار کرے اور قرآنی آیات اور شریعت کے قطعی نصوص کی دور از کار تاویل کرے یا انہیں اپنی عقل و فہم کے تابع بنانے کی کوشش کرے وہ دجل اور الحاد ہے ، اور قرآن کریم کی مختلف آیتوں سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، قرآن نے اس طرح کے کئی اعمال کو ملحدانہ اعمال قرار دیا ہے، اور مسلمانوں میں الحاد کا سبب نصوص شرعیہ سے بے نیاز ہو کر خواہشات نفس کی پیروی اور عقل کی پرستش ہے، پڑھے لکھے لوگوں کی گمراہی کا سبب اتباع نفس، ان کی فطرتی کبھی اور عقل پرستی رہی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا ہے: (أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذُ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ) ( الجاعة :۲۳) کیا آپ نے اس شخص پر غور نہیں کیا جس نے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنالیا نتیجتا اللہ تعالی نے اسے صاحب علم ہونے کے باوجود گمراہ کر دیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دیا، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ، ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون راہ دکھا سکتا ہے، کیا تم لوگ نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ البتہ غیر مسلم اقوام میں الحاد کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں جن میں سب سے اہم ان کے عقائد میں متعدد معبودوں کا وجود ہے اور طرح طرح کے غیر انسانی و غیر عقلی رسوم و رواج ہیں، بہت سے لوگوں کو یہ تعدد سمجھ میں نہیں آتا ہے اور واقعی سمجھ میں آنے والا بھی نہیں ہے ، اور لوگ دھیرے دھیرے دین سے برگشتہ ہوتے جاتے ہیں اور وہ دین سے نکل کر کسی ایسی فکر یا فلسفہ کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کے طلب نفس سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کو اور خصوصا علماء کو اس طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے ، ہمارا توحید کے اثبات میں اور شرک کے انکار میں تو کردار نظر آتا ہے مگر الحاد کی تردید میں کوئی کردار نہیں ہے، جب کہ ملحدین اللہ تعالی کے وجودہی کا انکار کر دیتے ہیں ۔ نیز عالمی پیمانہ پر اس تعلق سے متواتر کانفرنسیں منعقد ہوتی رہنی چاہئے جن کے ذریعہ اس کی روک تھام کے طریقوں پر گفتگو ہونی چاہئے ، ان اجتماعات کے حوالے سے اس خطر ناک رجحان سے نو جوانوں کو متنبہ کیا جانا چاہئے ، ان کے ذریعہ حکومتوں پر دباؤ بنایا جانا چاہئے کہ وہ اس کے سد باب کی کوششیں کریں اور اس فتنہ کے خاتمہ کے لئے سخت قوانین بنا ئیں اور انہیں نافذ کریں، عام طور سے یہ ملحدانہ افکار اس لئے پھیلائے جا رہے ہیں کیونکہ حکومتوں کی طرف سے ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا اور آزادی کے نام پر سب کچھ گوارا کر لیا جاتا ہے، یہ سب برائیاں حکومتوں کی پشت پناہی یا ان کے تغافل کی وجہ سے پھیل رہی ہیں اس لئے حکومتیں ہی ان کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عمل میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے، دعوت کے تمام طریقوں کو بروئے کار لا کر الحاد کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالی ہمارے ایمان و عمل کی حفاظت فرمائے ، دین کا حامی و سپاہی بنائے ، اور آخری سانس تک دین پر قائم رکھے۔












