علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے مالیکیولر ڈائگنوسٹکس اینڈ تھیراپی ایل ایل پی کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) میں ایک جدید ترین آنکولوجی و ایڈوانسڈ ڈائگنوسٹک سنٹر قائم کیا جائے گا۔ شعبہ ریڈیوتھیریپی کے کینسر اوپی ڈی بلاک میں قائم ہونے والا یہ سنٹر خطے میں کینسر کے علاج اور جدید تشخیصی سہولیات کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یادداشت مفاہمت پر مالیکیولر ڈائگنوسٹکس اینڈ تھیریپی ایل ایل پی کے بانی و چیف ایگزیکیٹیو آفیسر مسٹر موہت گپتا اور اے ایم یو کے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد، پرنسپل جے این میڈیکل کالج پروفیسر انجم پرویز، فنانس آفیسر مسٹر نورالسلام، چیئرمین شعبہ ریڈیوتھیریپی پروفیسر محمد اکرم اور مالیکیولر میں پارٹنر ڈاکٹر نکنج جین کی موجودگی میں دستخط کیے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ شراکت داری علی گڑھ و اطراف کے عوام کے لیے جدید اور کفایتی طبی سہولیات کو قابل رسائی بنانے کے تئیں اے ایم یو کے عزم کی عکاس ہے۔ تعلیمی امتیاز کو جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ یکجا کرکے یونیورسٹی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عالمی معیار کی کینسر تشخیص اور علاج کی سہولتیں لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں دستیاب ہوں۔ شعبہ ریڈیوتھیریپی کے چیئرمین پروفیسر محمد اکرم نے کہا کہ یہ اشتراک تعلیمی مہارت کو بامعنی کلینیکل نتائج میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یادداشت مفاہمت کی اصل قدر اس کے مؤثر نفاذ میں ہے، جس سے کلینیکل خدمات مضبوط ہوں گی، طلبہ اور ریزیڈنٹس کے لیے تربیتی مواقع میں اضافہ ہوگا اور تعلیم و صحت کے شعبوں کے درمیان اشتراک کا ایک پائیدار ماڈل قائم ہوگا۔ یہ سنٹر شمالی ہند کا پہلا جدید ڈیجیٹل ریڈیوتھیریپی پلیٹ فارم ہو گا جو ایڈوانسڈ لینیئر ایکسیلیریٹر (ایل آئی این اے سی) ٹکنالوجی پر مبنی ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ پیچیدہ طبی امراض کی ابتدائی تشخیص کے لیے ڈیجیٹل پی ای ٹی/سی ٹی اور گاما کیمرہ امیجنگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے میں ریڈیونیوکلائیڈ تھیراپی کی جامع خدمات بھی شامل ہوں گی، جن میں تھائرائیڈ کینسر اور دیگر آنکولوجیکل امراض کے لیے خصوصی علاج شامل ہے۔یہ اشتراک تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا، کیونکہ اس کے ذریعے اے ایم یو کے طلبہ اور اساتذہ کو جدید تشخیصی اور طبی ٹکنالوجیز پر عملی تجربہ حاصل ہوگا۔ یہ مرکز کلینیکل ریسرچ کا ایک اہم مرکز بنے گا اور آیوشمان بھارت، ای سی ایچ ایس، ای ایس آئی اور سی جی ایچ ایس جیسی سرکاری صحت اسکیموں کے تحت بھی خدمات فراہم کرے گا، تاکہ معیاری صحت دیکھ بھال تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔












