شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی:،سماج نیوز سروس: اوکھلا کے عاپ ایم ایل اے اوروقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خاں جامع مسجد دہلی کے امام احمد بخاری سے ملنے پہنچے ۔عاپ کے رہنماؤں کا دہلی کے ملی رہنماؤں سے ملنے کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔اور ذرائع سے ملی خبر کے مطابق یہ سلسلہ جاری رہنے والا ہے جس میں جلد ہی عاپ کے دیگر سینئر لیڈر بھی شامل ہونگے ۔دہلی کی سیاست میں مسلم ووٹرس بے حد منظم انداز میں ووٹ دیتے رہے ہیں ۔ایک دور تھا جب دہلی کے مسلمان صرف کانگریس کو ووٹ دیتے رہے ہیں ۔انہوں نے 2013 کے اسمبلی انتخاب اور 2019کے عام انتخاب میں بھی کانگریس کو ہی ووٹ دیا تھا۔لیکن 2013 کے بعد دہلی کے مسلمانوں نے پوری طرح عاپ کا دامن تھام لیا تھا ۔اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی اسمبلی میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہ جیت سکی اورعاپ دہلی کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔لیکن دہلی میں مسلمانوں کے مسائل کا جو پہاڑ کانگریس کے دور حکومت سے ہی کھڑا ہے عاپ ان سب کو بیک وقت حل کرنے سے قاصر رہی۔ اور دہلی کے مسلمانوں نے اسے بے اعتنائی سمجھا۔ عاپ دہلی کے اکثریتی ووٹرس کو کھونا نہیں چاہتی تھی جن پر مذہب کا رنگ اتنا گہرا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں تو بی جے پی کو ووٹ دیتے ہیں لیکن اسمبلی انتخاب میں وہ عاپ کو ووٹ دیتے ہیں وہ بھی اس لئے کہ عاپ نے دہلی میں سرکار بنانے کے بعد بنیادی سہولیات کا جو اضافہ کیا ہے وہ اس کا کارنامہ ہے۔لیکن ابھی حال کے کارپوریشن انتخاب میں مسلم اکثریتی علاقہ کے مسلمانوں نے اپنا رخ کانگریس کی جانب پھیر لیا ہے ۔جس سے عاپ کی بے چینی میں اضافہ ہونا فطری ہے اور یہی وجہ ہے کہ عاپ اپنا ڈیمیج کنٹرول کرنے کی مہم میں مصروف ہوگئی ہے ۔سنجے سنگھ اور گوپال رائے نے سب سے پہلے اس مہم کی شروعات کی اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ اور بزرگ عالم دین مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کی اور فورا ہی ڈپٹی مئیر کے طور چاندنی محل کے کونسلر اور جامع مسجد سے عاپ کے ایم ایل اے شعیب اقبال کے فرزند آل محمد اقبال کو ڈپٹی مئیر کے طور پر نامزد کردیا۔دوسری طرف اوکھلا کے ایم ایل اے اور وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خاں نے دہلی کے معروف علماء اور ملی اداروں کے سربراہوں سے براہ راست ملنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں اب تک امانت اللہ خاں جماعت اسلامی کے سربراہ انجینئر سعادت اللہ حسینی، تبلیغی جماعت کے سربراہ مولاناسعد ،مولانا ارشد مدنی ،مولانا محمود مدنی، مسجد فتحپوری کے امام اور جامع مسجد کے امام مولانا احمد بخاری سے ملاقات کرچکے ہیں ۔ان ملاقاتوں کے سلسلے میں سوالات کاجواب دیتے ہوئے امانت اللہ بھلے ہی یہ کہیں کہ ان سارے علماء سے ان کے ذاتی مراسم ہیں اور ان سے ملنا کوئی سیاسی قدم نہیں ہے لیکن دہلی کے سیاسی حلقوں میں ان ملاقاتوں کو جو معنی پہنائے جا رہےہیں وہ حقائق سے کافی قریب ہیں ۔یہ بات سب جانتے ہے کہ گزشتہ دو اسمبلی انتخاب میں دہلی کے مسلمانوں نے یکطرفہ عاپ کو ہی ووٹ دئے ہیں لیکن پارلیمانی انتخاب میں وہ سارے ووٹر کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں ۔اور یہ وجہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ میں کانگریس کو سب سے زیادہ 410107ووٹ ملے ہیں جبکہ بی جے پی کو 379855 اور عاپ کو صرف 133737ووٹ ہی ملے ہیں ۔یعنی دہلی میں ایک سیٹ بھی حاصل کئے بغیر مسلم حلقوں میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے ۔اور عاپ کو اس کا احساس بھی ہے اور تشویش بھی ۔لیکن سوال یہ ۔ایسے میں امانت اللہ خاں ملی رہنماوں سے مل کر کیا نیا کر پائیں گے اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔












