واشنگٹن (ہ س)۔امریکہ- ایران مذاکرات کے تیسرے دور سے پہلے دو باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ایٹمی مذاکرات کے دوران وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹکوف کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تجویز کردہ ٹائم ٹیبل کے مطابق حتمی ایٹمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فریقین کو پہلے عبوری معاہدے پر بات چیت کرنی چاہیے۔ ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ کے مطابق عراقچی نے وٹکوف کو بتایا ہے کہ کسی بھی جوہری معاہدے کی تفصیلی تکنیکی نوعیت کو دیکھتے ہوئے 60 دنوں کے اندر مذاکرات مکمل کرنا بہت مشکل ہوگا۔دریں اثنا وٹکوف نے عراقچی کو بتایا ہے کہ وہ اس وقت کسی عبوری معاہدے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بجائے وہ 60 دنوں کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وٹکوف نے کہا ہے کہ اگر دونوں فریقوں نے محسوس کیا کہ ڈیڈ لائن کے قریب آنے پر مزید وقت درکار ہے تو وہ عبوری معاہدے کے خیال پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا ہے کہ عراقچی اور وٹکوف نے روم میں بالواسطہ بات چیت کی ہے جس کی ثالثی عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کی اور براہ راست ملاقات بھی کی۔دریں اثنا ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ روم مذاکرات کے دوران وٹکوف اور عراقچی نے بہت اچھی پیش رفت کی ہے۔ عراقچی نے بدھ کے روز بیجنگ کے اپنے دورے کے دوران وضاحت کی ہے کہ ایران اور امریکہ ممکنہ معاہدے کے اصولوں پر بہتر سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اب مزید آگے بڑھنے کا موقع ہے۔ عمانی وزارت خارجہ نے بھی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے پر اتفاق کیا۔عمانی بیان کے مطابق ایران اور امریکہ نے ایک ایسے منصفانہ، دیرپا اور پابند معاہدے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے جو ایران کی ایٹمی ہتھیاروں اور پابندیوں سے مکمل آزادی کو یقینی بنائے اور پرامن جوہری توانائی تیار کرنے کی صلاحیت کو محفوظ رکھے۔صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے دو ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی اور سفارتی کوششوں کی ناکامی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کو متحرک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو ٹرمپ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی فوجی حملے کا حکم دے سکتے ہیں یا اسرائیلی حملے کی حمایت کر سکتے ہیں۔












