عالمی خبروں پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے بین الاقوامی سطح پر طوفان بپا کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کا ابھی کوئی نتیجہ برآمد بھی نہیں ہو پایا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا رخ کیوبا کی جانب مڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس تہلکہ خیز عالمی بساط پر واشنگٹن کے اہداف کی فہرست میں اس کا دیرینہ پڑوسی اور سرد جنگ کا پرانا دشمن کیوبا اب سر فہرست ہے۔ اس صورتحال میں جو سب سے تشویشناک اور واضح رجحان ابھر کر سامنے آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ایران کے معمر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو اپنے عتاب کا نشانہ بنانے کے بعد، اب امریکہ ایک اور معمر عالمی رہنما کو اپنے سیاسی اور قانونی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا۔
امریکی اخبارات کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر اور کیوبن انقلاب کے آخری زندہ معمار، راؤل کاسترو کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے 1996 میں آبنائے فلوریڈا کے اوپر دو شہری طیارے مار گرانے میں مبینہ طور پر کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جمعرات کی رات محکمہ انصاف کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کیے گئے اس اعلان نے سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، اور ایک ایسے تنازعے کی راکھ میں دوبارہ چنگاری ڈال دی ہے جسے وقت نے سرد کر دیا تھا۔
اس مقدمے کے پس منظر میں میامی میں مقیم جلاوطنوں کا ایک گروپ، برادرز ٹو دی ریسکیو ہے۔ 24 فروری 1996 کو کیوبا کے مِگ جنگی طیاروں نے اس گروپ کے دو سیسنا طیاروں کو مار گرایا تھا، جس کے نتیجے میں چار امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے یہ واقعہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات پر ایک سیاہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے جسے وقت کی دھوپ ہٹا نہیں سکی ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس تنازعے کو دانستہ طور پر جلا بخشنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غور کریں تو اس اقدام کا وقت بہت کچھ عیاں کرتا ہے۔ یہ فردجرم، جس کے لیے گرینڈ جیوری کی باقاعدہ منظوری مطلوب ہے، عین اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ نے کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والے کسی بھی ملک پر پابندیوں کی تلوار دکھا کر عملی طور پر اسے محصور کر دیا ہے ۔ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کیوبا کے گھروں میں تاریکی کا راج ہے اور پہلے سے تباہ حال معیشت اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر، جس دن اس فردِ جرم کا انکشاف ہوا، اسی دن سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ہوانا میں کیوبا کے حکام سے ملاقات کی۔ یہ جبری سفارت کاری کی ایک واضح مثال ہے۔ امریکہ اس شرط پر پر بات چیت کے لیے تیار ہے کہ کیوبا اپنے ملک میں بنیادی تبدیلیاں لائے۔ اس بنیادی تبدیلی کا مطلب کیوبا میں کمیونسٹ نظام کا خاتمہ ہے جو اپنی خستہ حالی کے باوجود امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر راضی نہیں ہے۔ قانونی ماہرین تو اس بات پر بحث کرتے رہیں گے کہ آیا 30 سال پرانے جنگی اقدام کی بنیاد پر ایک 94 سالہ سابق سربراہِ مملکت فرد جرم عائد کرنا کتنا درست ہے، مگر اس کی سیاسی منطق بالکل واضح ہے۔ فلوریڈا کے سدرن ڈسٹرکٹ میں امریکی اٹارنی کا دفتر اس تفتیش کی نگرانی کر رہا ہے جہاں میامی میں کاسترو مخالف جلاوطن لوگوں کی خاصی آبادی موجود ہے۔ صرف اس مقام کا انتخاب ہی واشنگٹن کے اصل اور پوشیدہ ارادوں کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔
کیوبا کے حکام کا اس حوالے سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔ کیوبا کی حکومت کے نزدیک یہ کوئی قانونی کارروائی نہیں ہے، بلکہ قانون اور انصاف کے لبادے میں چھپی ایک کھلی سیاسی جنگ ہے۔ اس کی اصل وجہ سمجھنے کے لیے ہمیں 1996 کے بجائے 1959 کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔
فدیل کاسترو کی وفات کو بارہ سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی آواز آج بھی کیوبا کی گلیوں میں سنائی دیتی ہے۔ اگر وہ حیات ہوتے، تو یقیناً اس فرد جرم کو کیوبا کی خودمختاری کے خلاف امریکہ کی 67 سالہ جارحیت کے تازہ ترین باب کے طور پر پیش کرتے۔ وہ دنیا کو یاد دلاتے کہ امریکہ نے ان کے انقلاب کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ نہ اس وقت جب کیوبا نے امریکی شوگر ملوں کو قومی سرمایہ بنا لیا، نہ 1961 کے بے آف پِگز حملے کی ناکامی کے بعد، نہ سی آئی اے کی ان قاتلانہ مہمات کے وقت جن میں مبینہ طور پر پھٹنے والے سگار اور زہر آلود غوطہ خور لباس استعمال کیے گئے، اور نہ ہی ان طویل اقتصادی پابندیوں کے دوران جو نو امریکی صدور کے ادوار سے بھی زیادہ طویل ثابت ہوئیں۔ فدیل ضرور اس آپریشن منگوز کا ذکر کرتے، جو کینیڈی انتظامیہ کی تخریب کاری اور بغاوت کی خفیہ مہم تھی۔ وہ 1976 میں کیوبانا فلائٹ 455 کے ہولناک بم دھماکے کی یاد تازہ کرتے، جس میں کیوبا کی پوری اولمپک فینسنگ ٹیم سمیت 73 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اور جس کا الزام سی آئی اے کے حمایت یافتہ جلاوطنوں پر عائد کیا گیا تھا۔ وہ سوال کرتے کہ تب امریکی انصاف اور فردِ جرم کہاں سو رہے تھے؟ شاید کاسترو یہی دلیل دیتے کہ 1996 کا طیاروں کو گرایا جانا، خواہ کتنا ہی افسوسناک کیوں نہ ہو، مسلسل امریکی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ تھا۔ برادرز ٹو دی ریسکیو نے کیوبا کی فضائی حدود کی سینکڑوں بار خلاف ورزی کی تھی اور کیوبا پر حکومت مخالف پمفلٹ برسائے تھے۔ کیوبا نے بارہا امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ کاسترو کے دور میں جب ان طیاروں کو مار گرایا گیا تو کیوبا کا موقف تھا کہ وہ اس کی سمندری حدود میں داخل ہو چکے تھے، لہٰذا کیوبا نے اسے قتل نہیں، بلکہ مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں اپنی خودمختاری کا دفاع قرار دیا تھا۔ فدیل ان چار پائلٹوں کی ہلاکت سے تو انکار نہ کرتے، مگر وہ انہیں اس ترازو میں تولتے جہاں کیوبا کا نقصان دہائیوں پر محیط پابندیوں کا عذاب، ادویات کی فراہمی پر ظالمانہ پابندی، اور معیشت کا گلا گھونٹا جانا ان اموات سے کہیں زیادہ بھاری محسوس ہوتا۔ وہ پوچھتے کہ امریکی عدالتیں کیوبا کے فوجی فیصلوں پر دائرہ اختیار کا دعویٰ تو کرتی ہیں، لیکن آج تک کسی عدالت نے امریکہ کو ان کے جزیرے کی معاشی تباہی پر کٹہرے میں کیوں کھڑا نہیں کیا؟
خیر یہ تو تب ہوتا اگر کاسترو زندہ ہوتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جان کی بازی ہارنے والے وہ چار افراد ارمانڈو الیہاندر جونیئر، کارلوس کوسٹا، ماریو ڈی لا پینا، اور پابلو مورالس فوجی نہیں تھے۔ وہ رضاکار تھے جنہوں نے آبنائے فلوریڈا کی بے رحم لہروں سے ہزاروں کیوبن مہاجرین کی جانیں بچائی تھیں۔ ان کے لواحقین تیس سال سے انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ تاہم، کیوبا کے مطابق اس گروپ کا بانی جوز باسلٹو محض انسانی حقوق کا علمبردار نہیں تھا۔ وہ سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والے جلاوطن حملوں میں ملوث تھا اور اس نے 1962 کے کیوبن میزائل بحران کے دور میں بھی خفیہ کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ برادرز ٹو دی ریسکیو کو امریکی حکومت سے باقاعدہ فنڈنگ ملتی تھی اور یہ امریکی حکام کی ایما پر کام کرتے تھے۔ کیوبا کی نظر میں یہ کوئی فلاحی ادارہ نہیں، بلکہ سیاسی دباؤ بڑھانے اور خفیہ معلومات جمع کرنے کا ایک آلہ تھا۔ 1996 کا سانحہ اسی دھندلی لکیر پر پیش آیا تھا جو انسانیت اور اشتعال انگیزی، بین الاقوامی اور علاقائی فضائی حدود، اور آزادیِ اظہار اور خودمختاری کے دفاع کے بیچ کھنچی ہوئی تھی۔
اس فردجرم کے وقت پر توجہ دیں تویہ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک انتہائی پرخطر موڑ پر کا احاطہ کرتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ اس وقت ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو امریکی وسائل کو نچوڑ رہی ہے، خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے، اور مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے بعد راؤل کاسترو پر ہاتھ ڈالنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بزرگ اور معمر مخالفین کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اپنا چکا ہے۔ اس پس منظر میں، کاسترو پر فردجرم عائد کرنا محض ایک سیاسی ڈرامہ معلوم ہوتا ہے۔












