حیدرآباد،پریس ریلیز،ہماراسماج: اچھے اور ذمہ دار شہری بنانے میں ادیب اطفال نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے سماجی اور تکنیکی حالات نے بچوں کے ادب کے سامنے نئے مسائل اور امکانات پیدا کیے ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے کیا۔ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو اور مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم اور ثقافتی سرگرمی مرکز کے اشتراک سے دو روزہ قومی سمینار سے صدارتی خطاب کر رہے تھے۔ سمینار کا عنوان "اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب: مسائل و امکانات” تھا۔پروفیسر عین الحسن نے اردو میں بچوں کے ادب کے شاندار ماضی کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال سے بھی واقف کرایا۔ انھوں نے کہا کہ آج کا بچہ پرانی نسل سے زیادہ ذہین ہے اور اس کے لیے لکھتے وقت تخلیق کار کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہوئے اس انداز میں لکھنے کی ضرورت ہے کہ بچے موبائل اور دیگر جدید آلات کی بجائے مطالعہ کتب کی طرف راغب ہو سکیں۔مہمان خصوصی معروف شاعر اور ادیب اطفال جناب حافظ کرناٹکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنا شوق نہیں ذمہ داری ہے۔ انھوں نے بچوں کے ادب کو محض تفریح کے بجائے کردار سازی اور فکری تربیت کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ممتاز فکشن نگار محترمہ ذکیہ مشہدی نے ادب اطفال کی تخلیق کے دوران بچوں کی نفسیات اور ان کی عمر و ذہنی سطح کا لحاظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کا ادب نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ استقبالیہ کلمات پروفیسر گلفشاں حبیب ڈین اسکول برائے السنہ لسانیات و ہندوستانیات نے ادا کیے اور موضوع کا تعارف صدر شعبہ ¿ اردو پروفیسر مسرت جہاں نے پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر فیروز عالم شعبہ اردو نے انجام دی جب کہ اختتامی کلمات پروفیسر محمد رضا اللہ خان ڈائرکٹر سی ڈی او ای مانو نے پیش کیے۔ پروگرام کی شروعات محمد سلمان ریسرچ اسکالر شعبہ اردو مانو نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔افتتاحی پروگرام کے بعد دو روزہ سیمینار کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر امتیاز حسنین، ایڈجنکٹ پروفیسر مانو اور سابق ڈین آرٹ فیکلٹی اے ایم یو اور پروفیسر محمد نسیم الدین فریس سابق ڈین اسکول برائے السنہ ،لسانیات و ہندوستانیات، مانو نے کی۔ اس موقعے پر پروفیسر اشتیاق احمد رجسٹرار مانو بھی تشریف فرما تھے۔ اس اجلاس میں پروفیسر محمد کاظم شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی، پروفیسر سید محمود کاظمی شعبہ ترجمہ مانو، پروفیسر محمد زاہد الحق شعبہ اردو حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی ، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی کرناٹک، ڈاکٹر احسن ایوبی، شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور محمد شہاب الدین ریسرچ اسکالر مانو نے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس کی نظامت محترمہ حنا گلاب استاد شعبہ اردو مانو نے کی۔سیمینار کا دوسرا اجلاس پروفیسر سید علیم اشرف جائسی، سابق ڈین بہبودیِ طلبہ، مانو اور پروفیسر صدیقی محمد محمود ڈین بہبودیِ طلبہ مانو کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر ادریس صدیقی کینیڈا، پروفیسر نثار احمد، ایس وی یونیورسٹی تروپتی، ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی، اے ایم یو علی گڑھ، ڈاکٹر شہناز رحمٰن مشہور فکشن نگار، ریسرچ اسکالرز مرجان علی، محمد محتشم اور تبسم کوثر نے مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر بدر سلطانہ استاد شعبہ اردو مانو نے کی۔تیسرا اجلاس پروفیسر محمد کاظم، شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی اور پروفیسر شمس الہدیٰ دریابادی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر عرشیہ جبیں یونیورسٹی آف حیدرآباد، پروفیسر مشرف علی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جناب مرزا عبدالقیوم، جناب خواجہ معین الدین اورنگ آباد، جناب مرزا عبدالقیوم ندوی بانی محلہ لائبریری مشن، اورنگ آباد، ڈاکٹر صابر علی سیوانی، ڈاکٹر خواجہ مخدوم محی الدین کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اسما امروز اور واصفہ عشرت نے بھی مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس کی نظامت پروفیسر احمد خاں، استاد شعبہ اردو نے کی۔












