• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, جولائی 14, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

آہ !پروفیسر ابن کنول :اردو زبان میں داستان گوئی کی تاریخ کا حرفِ آخر ہمارے بیچ سے اٹھ گیا

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 12, 2023
0 0
A A
آہ !پروفیسر ابن کنول :اردو زبان میں داستان گوئی کی تاریخ کا حرفِ آخر ہمارے بیچ سے اٹھ گیا
Share on FacebookShare on Twitter

نئی دہلی ، یہ خبر انتہائی افسوسناک ہے کہ اردو کے مایہ ناز استاذ پروفیسر ابن کنول کا آج علی گڈھ میں ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔وہ علیگڈھ کے شعبہ اردو میں ایک واؤا کے سلسلے میں گئے تھے۔یکایک ان کی طبیعت بگڑی اور ہسپتال جاتے جاتے داعی اجل کو لبیک کہدیا۔وہ ایک اعلی اور ذی علم خانوادے کے چشم و جراغ تھے۔علی گڈھ کے قریبی قصبہ ڈبائی میں پیدا ہوئے اور علی گڈھ سے ہی تعلیم حاصل کی بعد از آں دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں استاذ مقرر ہوکر صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔روزنامہ ہمارا سماج کے جملہ اراکین ان کی وفات سے ملول ہیں۔اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔اردو زبان و ادب کو بھی اللہ اس خسارے کا بدل عطا کرے۔
ان کے چند رفقا کے غمگین تاثرات
اردو کی داستان گوئی پر درجہ استناد رکھنے والے اور شخصی خاکہ نگاری میں امتیازی حیثیت کے مالک پروفیسر ابنِ کنول کا انتقال ایک بڑا حادثہ ہے۔مشہور دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے پروفیسر ابن کنول کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی ملنسار، خوش اخلاق اور اچھے قلم کاروں میں تھے۔ ان کے شاگرداور رفقائے کار اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں۔ پروفیسر واسع نے انتہائی غم زدہ لہجے میں کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس طرح سے ہمارے بیچ سے اٹھ جائیں گے۔ میرا ان سے اور ان کے والد سے دیرینہ تعلق تھا۔ آج دونوں اس دنیامیں نہیں رہے، یہ احساس بڑا صبرآزما ہے۔ خدائے بزرگ و برتر سے دعاءہے کہ وہ مرحوم ابن کنول کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگار ن کو اس حادثۂ ناگہانی پر صبر کی توفیق عطا فرمائے۔
پروفیسر اخترالواسع
پروفیسر ابن کنول کا اچانک دنیا سے اٹھ جانا تمام اردو والوں کے لئے جانکاہ صدمے سے کم نہیں ہے۔ مرحوم نے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں طویل مدت تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ ابن کنول صاحب نہایت خوش خلق اور اور دوست دار انسان تھے۔ پوری اردو دنیا میں جن اساتذہ کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، ان میں مرحوم بہت ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اردو زبان و ادب کے میدان میں ابن کنول صاحب کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے تمام متعلقین کو صبر عطا کرے۔
پروفیسر احمد محفوظ ،صدر شعبہ اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
پروفیسر ابن کنول صاحب انتہائی ،خلیق ،ملنسار اور محبتِ کرنے والے انسان تھے۔وہ ایک اچھے استاذ،تخلیق کار اور ناقد بھی تھے۔شعبہ اردو دھلی یونیورستی میں ہمارا بیس برسوں کا ساتھ تھا۔وہ پابندی سے کلاس لیتے اور طالبعلموں کی علمی معاونت میں ہر طرح تیار رہتے تھے۔ تمام رفقاءسے بھی ان کے بہتر تعلقات تھے۔ہر کے ساتھ خوش دلی سے پیش اور عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے۔طالبعلم ان کی بعض خوبیوں کی بنا پر انھیں کافی پسند کرتے تھے۔زود حس تھے اس لیے اچھی اور بری باتوں کا فورا اثر قبول کرنے اور جلد ہی خوش اور ناراض ہو جاتے۔۔ غصے اور ناراضگی کی حالت میں بھی بری یہ نہ مناسب باتیں منھ سے نہیں نکالتے تھے۔ خوش گفتاری اور حس مزاح ان کی شناخت تھی۔۔ علیگ ہونے کی وجہ سے مجھ سے بطور خاص محبتِ رکھتے تھے۔۔شعبے سے سبکدوشی کے دن ملنے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا ڈاکٹر صاحب آپ شعبے سے ریٹائر ہو رہے ہیں ، ہمارے ذہن و دل سے نہیں۔ائے رہیے گا تاکہ آپ کی سرپرستی اور محبت کا احساس توانا رہے۔ سن کر آب دیدہ ہو گیے،فرمایا اتا رہوں گا۔اب اچانک ان کے دنیا سے چلے جانے یقین نہیں ہو رہا ہے۔ خدا ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔۔افسوس صد افسوس
پروفیسر ابو بکر عباد شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی
پروفیسر ابن کنول پریم چند اسکول کے جدید قابل قدر افسانہ نگار تھے اور دبستان قمر رئیس کے اہم ناقد اور محقق تھے۔شعبہء اردو دہلی یونیورسٹی کے وقار کی بازیافت اور تعمیر و ترقی میں آپ کا اہم رول رہا ہے۔ابن کنول صاحب نے ہمیشہ با صلاحیت طلبا کی حتی الامکان معاونت کی اور اردو تحقیق و تنقید کو معیار و وقار بخشنے کی کوشش کی۔پروفیسر ابن کنول صاحب میرے بڑے محسنین میں سے تھے۔انہیں مرحوم لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔بہر حال مشیت ایزدی۔ اللہ انکی مغفرت کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
پروفیسر ظہیر رحمتی،ذاکر حسین کالج ،دہلی یونیورسٹی
ابن کنول صاحب کا نام آتے ہی ایک ہنستا مسکراتا اور بشاس چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔آج جب فیس بک پر یہ اندوہناک خبر دیکھی تو طبیعت پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔وہ ایک افسانہ نگار ،خاکہ نگار ،استاد تو تھے ہی لیکن جو سب سے بڑی خوبی تھی وہ ان کی رواداری اور حسن سلوک۔وہ خردوں سے بھی کھل کر ملتے تھے ،ان کے اندر کسی قسم کی بناوٹ نہیں تھی۔سیمینار ہو یا جلسہ یا پھر کوئی نجی مجلس نہایت خوبصورت اور اکثر بے باک گفتگو کرتے تھے۔مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے۔اپنے شاگردوں کے لئے کچھ کر گذرنے کا جذبہ تھا۔اپنے رفقائے کار کے معاندانہ رویوں کا ذکر بھی کرتے تو مذاحیہ انداز میں۔انہوں نے کلاسیکی ادب بالِخصوص داستان اور ناول پر اچھے تنقیدی کام کئے۔ان کے افسانوں کے بھی کئی مجموعہ شائع ہو چکے ہیں جنہیں مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے۔ادھر کچھ دنوں سے ،خصوصا کووڈ کے لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے خاکے لکھے اور خوب لکھے ،ساتھ ہی خاکے پڑھکر ویڈیو بناتے اور فیس بک پر شئر کرتے رہے۔خاکہ نگاری میں انہیں درک حاصل تھا۔پڑھنے کا انداز بھی خوب تھا۔افسوس !کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔اب یا تو ان کی یادیں ہیں یا تحریریں۔دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین
پروفیسر کوٹر مظہری شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر ابن کنول نے ہماری ادبی اور تہذیبی زندگی کو اپنی تحریروں اور تقاریر سے متاثر کیا ہے۔اردو نثر کے ارتقائی سفر پر ان کی گہری نظر تھی ،کلاسیکی اور جدید نثر کے سلسلے میں ان کی خدمات بہت اہم ہیں۔اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور اردو ادب کو ان کا نعم البلد عطا کرے۔
پروفیسر سرور الہدی جامعہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر ابن کنول موجودہ ادبی منظر نامہ میں کلاسیکی نثر کے بڑے پارکھ تھے۔آج ان کی موت سے کلاسیکی روایت کے ایک مستند قاری و ناقد سے اردو دنیا محروم ہو گئی۔اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے۔
پروفیسر ساجد احمد ،دیال سنگھ کالج دہلی یونیورسٹی
پروفیسر ابن کنول ایک مخلص اور مشفق استاد تھے۔ ان سے جب بھی کو ئی ملتا تو دیر تک اور دور تک ان کی یادوں کے نقوش ذہن و دل پر ثبت ہو جاتے نہایت نیک اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ بطور استاد وہ نہایت ایماندار تھے ان کے اچانک چلے جانے سے اردو ادب کا نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
پروفیسر مشتاق قادری ، شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist