نئی دہلی ، یہ خبر انتہائی افسوسناک ہے کہ اردو کے مایہ ناز استاذ پروفیسر ابن کنول کا آج علی گڈھ میں ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔وہ علیگڈھ کے شعبہ اردو میں ایک واؤا کے سلسلے میں گئے تھے۔یکایک ان کی طبیعت بگڑی اور ہسپتال جاتے جاتے داعی اجل کو لبیک کہدیا۔وہ ایک اعلی اور ذی علم خانوادے کے چشم و جراغ تھے۔علی گڈھ کے قریبی قصبہ ڈبائی میں پیدا ہوئے اور علی گڈھ سے ہی تعلیم حاصل کی بعد از آں دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں استاذ مقرر ہوکر صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔روزنامہ ہمارا سماج کے جملہ اراکین ان کی وفات سے ملول ہیں۔اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔اردو زبان و ادب کو بھی اللہ اس خسارے کا بدل عطا کرے۔
ان کے چند رفقا کے غمگین تاثرات
اردو کی داستان گوئی پر درجہ استناد رکھنے والے اور شخصی خاکہ نگاری میں امتیازی حیثیت کے مالک پروفیسر ابنِ کنول کا انتقال ایک بڑا حادثہ ہے۔مشہور دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے پروفیسر ابن کنول کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی ملنسار، خوش اخلاق اور اچھے قلم کاروں میں تھے۔ ان کے شاگرداور رفقائے کار اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں۔ پروفیسر واسع نے انتہائی غم زدہ لہجے میں کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس طرح سے ہمارے بیچ سے اٹھ جائیں گے۔ میرا ان سے اور ان کے والد سے دیرینہ تعلق تھا۔ آج دونوں اس دنیامیں نہیں رہے، یہ احساس بڑا صبرآزما ہے۔ خدائے بزرگ و برتر سے دعاءہے کہ وہ مرحوم ابن کنول کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگار ن کو اس حادثۂ ناگہانی پر صبر کی توفیق عطا فرمائے۔
پروفیسر اخترالواسع
پروفیسر ابن کنول کا اچانک دنیا سے اٹھ جانا تمام اردو والوں کے لئے جانکاہ صدمے سے کم نہیں ہے۔ مرحوم نے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں طویل مدت تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ ابن کنول صاحب نہایت خوش خلق اور اور دوست دار انسان تھے۔ پوری اردو دنیا میں جن اساتذہ کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، ان میں مرحوم بہت ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اردو زبان و ادب کے میدان میں ابن کنول صاحب کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے تمام متعلقین کو صبر عطا کرے۔
پروفیسر احمد محفوظ ،صدر شعبہ اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
پروفیسر ابن کنول صاحب انتہائی ،خلیق ،ملنسار اور محبتِ کرنے والے انسان تھے۔وہ ایک اچھے استاذ،تخلیق کار اور ناقد بھی تھے۔شعبہ اردو دھلی یونیورستی میں ہمارا بیس برسوں کا ساتھ تھا۔وہ پابندی سے کلاس لیتے اور طالبعلموں کی علمی معاونت میں ہر طرح تیار رہتے تھے۔ تمام رفقاءسے بھی ان کے بہتر تعلقات تھے۔ہر کے ساتھ خوش دلی سے پیش اور عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے۔طالبعلم ان کی بعض خوبیوں کی بنا پر انھیں کافی پسند کرتے تھے۔زود حس تھے اس لیے اچھی اور بری باتوں کا فورا اثر قبول کرنے اور جلد ہی خوش اور ناراض ہو جاتے۔۔ غصے اور ناراضگی کی حالت میں بھی بری یہ نہ مناسب باتیں منھ سے نہیں نکالتے تھے۔ خوش گفتاری اور حس مزاح ان کی شناخت تھی۔۔ علیگ ہونے کی وجہ سے مجھ سے بطور خاص محبتِ رکھتے تھے۔۔شعبے سے سبکدوشی کے دن ملنے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا ڈاکٹر صاحب آپ شعبے سے ریٹائر ہو رہے ہیں ، ہمارے ذہن و دل سے نہیں۔ائے رہیے گا تاکہ آپ کی سرپرستی اور محبت کا احساس توانا رہے۔ سن کر آب دیدہ ہو گیے،فرمایا اتا رہوں گا۔اب اچانک ان کے دنیا سے چلے جانے یقین نہیں ہو رہا ہے۔ خدا ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔۔افسوس صد افسوس
پروفیسر ابو بکر عباد شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی
پروفیسر ابن کنول پریم چند اسکول کے جدید قابل قدر افسانہ نگار تھے اور دبستان قمر رئیس کے اہم ناقد اور محقق تھے۔شعبہء اردو دہلی یونیورسٹی کے وقار کی بازیافت اور تعمیر و ترقی میں آپ کا اہم رول رہا ہے۔ابن کنول صاحب نے ہمیشہ با صلاحیت طلبا کی حتی الامکان معاونت کی اور اردو تحقیق و تنقید کو معیار و وقار بخشنے کی کوشش کی۔پروفیسر ابن کنول صاحب میرے بڑے محسنین میں سے تھے۔انہیں مرحوم لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔بہر حال مشیت ایزدی۔ اللہ انکی مغفرت کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
پروفیسر ظہیر رحمتی،ذاکر حسین کالج ،دہلی یونیورسٹی
ابن کنول صاحب کا نام آتے ہی ایک ہنستا مسکراتا اور بشاس چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔آج جب فیس بک پر یہ اندوہناک خبر دیکھی تو طبیعت پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔وہ ایک افسانہ نگار ،خاکہ نگار ،استاد تو تھے ہی لیکن جو سب سے بڑی خوبی تھی وہ ان کی رواداری اور حسن سلوک۔وہ خردوں سے بھی کھل کر ملتے تھے ،ان کے اندر کسی قسم کی بناوٹ نہیں تھی۔سیمینار ہو یا جلسہ یا پھر کوئی نجی مجلس نہایت خوبصورت اور اکثر بے باک گفتگو کرتے تھے۔مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے۔اپنے شاگردوں کے لئے کچھ کر گذرنے کا جذبہ تھا۔اپنے رفقائے کار کے معاندانہ رویوں کا ذکر بھی کرتے تو مذاحیہ انداز میں۔انہوں نے کلاسیکی ادب بالِخصوص داستان اور ناول پر اچھے تنقیدی کام کئے۔ان کے افسانوں کے بھی کئی مجموعہ شائع ہو چکے ہیں جنہیں مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے۔ادھر کچھ دنوں سے ،خصوصا کووڈ کے لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے خاکے لکھے اور خوب لکھے ،ساتھ ہی خاکے پڑھکر ویڈیو بناتے اور فیس بک پر شئر کرتے رہے۔خاکہ نگاری میں انہیں درک حاصل تھا۔پڑھنے کا انداز بھی خوب تھا۔افسوس !کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔اب یا تو ان کی یادیں ہیں یا تحریریں۔دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین
پروفیسر کوٹر مظہری شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر ابن کنول نے ہماری ادبی اور تہذیبی زندگی کو اپنی تحریروں اور تقاریر سے متاثر کیا ہے۔اردو نثر کے ارتقائی سفر پر ان کی گہری نظر تھی ،کلاسیکی اور جدید نثر کے سلسلے میں ان کی خدمات بہت اہم ہیں۔اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور اردو ادب کو ان کا نعم البلد عطا کرے۔
پروفیسر سرور الہدی جامعہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر ابن کنول موجودہ ادبی منظر نامہ میں کلاسیکی نثر کے بڑے پارکھ تھے۔آج ان کی موت سے کلاسیکی روایت کے ایک مستند قاری و ناقد سے اردو دنیا محروم ہو گئی۔اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے۔
پروفیسر ساجد احمد ،دیال سنگھ کالج دہلی یونیورسٹی
پروفیسر ابن کنول ایک مخلص اور مشفق استاد تھے۔ ان سے جب بھی کو ئی ملتا تو دیر تک اور دور تک ان کی یادوں کے نقوش ذہن و دل پر ثبت ہو جاتے نہایت نیک اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ بطور استاد وہ نہایت ایماندار تھے ان کے اچانک چلے جانے سے اردو ادب کا نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
پروفیسر مشتاق قادری ، شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی












