دیوبند (سماج نیوز سروس) جمعیۃ علماء ہندنے آئندہ 3؍ نومبر 2024ء اتوار کے روز دہلی کی اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں’کل ہند تحفظ آئین و قومی یکجہتی‘ کے عنوان پر کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔اْس کانفرنس کوکامیاب بنانے کیلئے جمعیۃ علماء ہند کی ذیلی یونٹوں نے کوششیں شروع کردی ہے۔اس سلسلے میں آج جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے اراکین کا ایک اہم پروگرام مولانا حسین احمد مدنی مدرسہ انبہٹہ پیرمیں منعقد ہوا،جس میں ضلع سہارنپور کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر مولانا سید حبیب اللہ مدنی صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ ملک فرقہ واریت کا شکار ہوگیا ہے اور فرقہ پرست طاقتیں اس کو دوبارہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں،جمعیت علماء ہمیشہ سے قانونی چارہ جوئی،صبر وتحمل اور پیار و محبت ہی کو کامیابی کا راستہ سمجھتی رہی ہے، ہم نے شدت پسندی اور اشتعال انگیزی اور بھڑکاؤ بیانات کی پالیسی کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ مولانا سید ازہر مدنی نے کہاکہ جمعیت علماء ہند کے ماضی کی روشن تاریخ پر مختصر اور جامع روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جمعیت علمائے ہند ایک ایسی جماعت ہے جس کی بنیاد میں ہی مذہب ہے،جمعیت "ملت اسلامیہ” کے اَن گنت مسائل کو مختلف اداروں میں اٹھاتی رہی ہے، آج وقف کو بچہ بچہ جانتا ہے،لیکن جمعیت وقف کے مسئلے پر اْس وقت سے کام کررہی ہے جب کہ لوگ اس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں تھے۔پروگرام میں مولانا شوکت کنڈہ جدید،مولانا ساجد کاشفی،مولانا معین الدین انبہٹہ پیر،مولانا اطہر حقانی،مولانا اسعد حقانی،مولانا اطہر زاہدی،مفتی غیاث الدین،لکھنوتی،مولانا آصف ندوی چھٹمل پور،مولانا عطاء الرحمن نانکہ،مولانا معوذ چلکانہ ، مولانا محمد اقبال دھانوہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سبھی حضرات نے اپنے اپنے علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے بھر پور محنت کا وعدہ کیا۔قاری سعید الرحمٰن کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔پروگرام میں حاجی شاہد زبیری ،مولانا محسن ندوی ، مفتی شعیب بسی راؤ ، مولانا اختر کنڈہ ، مولانا طاہر کنڈہ ، مولانا عاقل ٹڈولی ، قاری ہارون کاشفی ، قاری مکرم چالاک پور، مفتی اسجد ہریدواری و مولانا احسان تحسین قاسمی کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء و ائمہ حضرات نے شرکت کی۔












