نئی دہلی،: قومی خطہ دارالحکومت دہلی میں واقع سماجی و فلاحی تنظیم انٹرنیشنل اویکننگ سینٹر نے دس مسلم اور اثر و رسوخ والے رہنماؤں کو پورے ملک میں قومی یکجہتی اور آپسی اتحاد بنائے رکھنے کے لئے ان سے اپیل کی ہے، مذکورہ تنظیم کے صدر مجاز مونگیری نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و ممبر آف پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی ، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ، امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند اصغر علی امام مہدی سلفی ، امیر شریعت بہار ،اڑیسہ وجھاڑکھنڈ ، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، دارالعلوم مظہر اسلام کے مہتمم انس رضا قادری اور ناظم اعلیٰ مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور مولانا شاہد جیسے دس مسلم رہنماؤں سے درخواست کی ہے کہ وہ مسلم لڑکوں کے متعلق نام نہاد لو جہاد کے معاملوں کو روکنے کے لئے پورے ہندوستان میں مہم چلائیں کہ مسلم لڑکے اپنی پہچان چھپا کر ہندو لڑکیوں کو جھوٹے محبت کے جال میں نہ پھنسائیں اور اس کے بجائے ملک و ملت کے لئے تعمیری کام پر اپنی توانائی صرف کریں جیسا کہ ان کے اسلاف کا طریقہ رہا ہے، مشہور و معروف عالم دین و معزز اسلامی اسکالر ولی اللہی دارالافتاء والقضاء وآن لائن فتویٰ دہلی کے صدر مفتی عبد الواحد قاسمی صاحب اور ماہر اسلامیات نوجوان فاضل دیوبند ڈاکٹر مفتی آصف اقبال قاسمی صدر اسلامک ریسرچ اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن جنہیں سابق صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کے ہاتھوں ایک انٹر نیشنل بین المذاھب سمیلن میں مسلم سماج کے نمائندہ شخصیات کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا ہے، دونوں اسلامی اسکالر نے بھی سبھی دانشوران قوم و ملت سے ملک کے الگ الگ صوبوں میں سوشل میڈیا ٹویٹر فیس بک انسٹاگرام اور یوٹیوب وغیرہ پر مسلمانوں کے خلاف ہورہے گمراہ کن پروپیگنڈا کو روکنے کے لئے ایک مستند اور قابل افراد پر مشتمل ٹیم کی تشکیل دی جائے جو ملک کے اکثریتی سماج کو سچائ سے آگاہ کیا اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی افواہوں اور پروپیگنڈوں پر لگام لگاتے ہوئے سچائی اور حقیقت حال سے لوگوں کو روشناس کراسکے، انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ملک مخالف طاقتیں ، بھارت کے امن و امان اور قومی یکجہتی کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اس سے متعلق ایک خاص طبقہ کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے اور فرضی ویڈیوز ، ایڈٹیڈ فوٹوز اور بھڑکیلے بیانات گنے چنے ملک مخالف طاقتیں اور غیر سماجی عناصر کے ذریعہ مستقل ڈالے جارہے ہیں ۔مجاز مونگیری مفتی عبدالواحد قاسمی اور ڈاکٹر مفتی آصف اقبال قاسمی نے مشترکہ طور پر کیا کہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ہماری پیدائش عظیم ملک بھارت میں ہوئی اور 1947 کے بھارت پاکستان تقسیم کے وقت پاکستان نہ جاکر ہم نے اپنا اور اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کو دیکھتے ہوئے بھارت میں ہی رہنے کو مناسب سمجھا جو کہ ہمارے لئے درست فیصلہ ثابت ہوا بھارت میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے جو بھارتی مسلمانوں کے لیے فخر کی بات ہے آج پاکستان اور پاکستانیوں کی بدترین صورتحال سے دنیا بخوبی واقف ہے ۔












