سرینگر ، وادی کشمیر میں منعقد ہو نے والی G20اجلاس کے پیش نظر سیکورٹی کو بڑھائوا دینے کیلئے نئی دہلی سے خصوصی دستے اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے علاوہ سرینگر، گلمرگ اور کچھ دیگر مقامات پر اضافی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میںلا ئی جائے گی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ بین الاقوامی مندوبین سرینگر میں چار روزہ تک قیام کریں گئے جبکہ 23مئی کو ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوگا ۔تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں منعقد ہونی والے G20اجلاس کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں جس میں خاص طور پر خصوصی کمانڈوز کی تعینات ، ڈرون مخالف ٹیکنالوجی سمیت اعلیٰ حفاظتی اقدامات کا اجلاس کی سیکورٹی کا حصہ ہونگے ۔ حساس علاقے ان اقدامات کے سلسلے میں شامل ہیں جن پر ایک مرکزی ٹیم نے جموں و کشمیر کے پولیس اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ سرینگر میں 22 سے 25 مئی تک ہونے والے جی 20 اجلاس کیلئے تبادلہ خیال کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر 23 مئی کو سرینگر میں منعقد ہونے والے ورکنگ گروپ آف ٹورازم کے G20 اجلاس میں مندوبین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے لیے تیار ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیاحت پر ورکنگ گروپ کے G20 مندوبین 22 مئی کو سرینگر پہنچیں گے اور ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔ گروپ کی میٹنگ 23 مئی کو ہوگی۔ مندوبین کو 24 مئی کو سرینگر کے اہم سیاحتی مقامات پر لے جایا جائیگا جس میں ڈل جھیل بھی شامل ہے جہاں وہ شکارا سواری، دچی گام وائلڈ لائف سنچری اور گلمرگ کے بعد کچھ دیگر اہم مقامات پر جائیں گے۔ وہ 25 مئی کو نئی دہلی واپس آئیں گے۔جموں و کشمیر کے پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے مرکز کے زیر انتظام علاقے خاص طور پر وادی میں جہاں میٹنگ ہونے والی ہے میں G20 کے مندوبین کے لیے سیکورٹی اور دیگر انتظامات کرنے پر ایک مرکزی ٹیم کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔اس کے علاوہ نئی دہلی سے خصوصی فورس اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو سرینگر اور سیاحتی مقامات پر تعینات کیا جائے گا جہاں G20 کے مندوبین جائیں گے۔ پرامن میٹنگ کو یقینی بنانے کیلئے یوٹی کے اندر سے اضافی نیم فوجی دستوں کو بھی منتقل کیا جائے گا اور سری نگر، گلمرگ اور دیگر کمزور علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔چونکہ امرناتھ جی یاترا کی سالانہ یاترا کیلئے اضافی نیم فوجی دستے بھی جون کے اوائل میں جموں و کشمیر پہنچنا شروع کر دیتے ہیں، کچھ کمپنیاں G20 میٹنگ کے دوران تعیناتی کیلئے پیشگی پہنچ سکتی ہیں۔ تاہم اس بارے میں فیصلہ اگلے چند دنوں میں نئی دہلی میں مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے بلائی جانے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا جائے گا جس میں جی 20 اجلاس کے سیکورٹی انتظامات، جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی عمومی صورتحال اور آئندہ یاترا کا جائزہ لیا جائے گا۔ جی 20 اجلاس کیلئے سیکورٹی انتظامات فول پروف ہوں گے۔ ہائی پروفائل دوروں سے پہلے کئی مشقیں کی جائیں گی۔ تمام مقامات جہاں بین الاقوامی مندوبین 22 سے 25 مئی تک ملاقات کریں گے، قیام کریں گے اور دورہ کریں گے، جموں و کشمیر پولیس (جے کے پی)، نیم فوجی دستوں، خصوصی دستوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی موجودگی سے محفوظ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جی 20 ممالک کی اکثریت کے مندوبین سرینگر میں سیاحت پر ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے جی 20 اجلاسوں کی میزبانی کا مرکزی مقام شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) ہے، جو ڈل جھیل کے کنارے واقع ہے۔ پنڈال کو ایک تبدیلی دی جا رہی ہے جس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور اندرونی اور بیرونی کی تزئین و آرائش شامل ہے۔سرینگر سے گلمرگ جانے والی سڑک، ناربل گلمرگ تک کی سڑک کو ایک نئی شکل دی جا رہی ہے، اور چشمی شاہی میں دیگر جھونپڑیوں کے ساتھ نہرو گیسٹ ہاؤس کو نئے سرے سے بنایا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے ایک خصوصی میڈیکل ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے جس میں مقامات اور سیر کے مقامات پر جدید لائف سپورٹ موبائل ایمبولینسیں شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں جی 20 ممبران کے علاوہ مہمان ممالک اور کئی بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین شرکت کریں گے۔












