بھاگلپور(پریس ریلیز) انجمن باغ و بہار ،برہ پورہ،بھا گل پورکے زیر اہتمام مہ جبیں کی رہائش گاہ پر جوثر ایاغ کی صدارت میں کرن کشمیری کے یوم وفات پر ایک ادبی تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ کرن کشمیری اردو زبان و ادب کا ایک معتبرنام ہے۔ وہ بیک وقت غزل گو،نظم نگار، ناول نگار،افسانہ نگار،قطعہ گو، صحافی ،مدیر وغیرہ تھے۔ انکے کلام میں سماجی برائیوں،انسان کی عظمتوں،مجبوروں کی بے بسی اور بے کسی کی سچی تصویر نظر آتی ہے۔انکے افسانوں میں رومانیت پائی جاتی ہے۔ انکا اصل نام دیوراج چوپڑہ اور کرن کشمیری کے نام سے ادبی دنیا میں مشہور ہیں۔ تھے۔12اپریل 1934جموں میں پیدا ہوئے اور وفات26دسمبر2007دہلی میں۔ انہوں نے پنجاب یونیور سٹی سے بی۔اے کیا۔انہوں نے اپنا رسالہ سنگم 1953ء میں نکالا۔ماہنامہ چندن اور ملاپ سے بھی وابستہ رہے۔کئی شعبوں میں ملازمت کی ،آل انڈیا ریڈیو میں جوائنٹ ڈائریکٹرکے عہدے سے 1993ء میں سبکدوش ہوئے۔دردرشن میںاردو نیوز سروس شروع کرانے میں انکا اہم رول رہا ہے۔1951ء میں انکا پہلا افسانہ رسالہ شاعر میں شائع ہوا۔ انکی تصانیف میں خوابوں کے قافلے،رات اور زلف،شہر گل شہر خاموشاں ہیں۔انکی اہم نظموں میںکچھ بھی تو نہیں بدلا،طفل ناداں،منٹو،سراپا،تم مجھکو کیا پیار کروگی،مجبوری،شکت خواب،جگنو،دعوت،ہابیل قابل،ایک خط، گذارش،پت چھڑ کا پھول،پیاسے ہونٹ وغیرہ اہم ہیں۔نشست میں شامل جوثر ایاغ، الحاج ڈاکٹر حبیب مرشد خاں، ڈاکٹر عالیہ خان(ویشالی مہیلا کالج،حاجی پور)،انجینئر دانش عبداللہ نے کرن کشمیری کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔












