نئی دہلی 7نومبر،سماج نیوز سروس: دہلی میں آلودگی اتنی ہے کہ اب دہلی کے لوگوں کا دہلی میں دم گھٹ رہا ہے۔ ایسے میں وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کئی بڑے فیصلے لیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ سڑک کے کنارے اڑنے والی دھول کو کنٹرول کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً پانی کا چھڑکاؤ کیا جانا ہے۔جب ہماری ’’ہمارا سماج‘‘کی ٹیم نے آنند وہار ،سیلم پور ،دلشاد گارڈن کے کئی علاقوں میں رئیلٹی چیک کیا تو دیکھا کہ واٹر کینن گاڑیاں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہی ہیں۔ ایم ایل اے اور دہلی اسمبلی میں اسپیکر رام نواس گوئل نے کہا کہ تقریباً آٹھ واٹر کینن گاڑیاں وقت پر ایک روٹ پر پانی چھڑک رہی ہیں، جس کا فائدہ عوام اٹھا رہے ہیں۔آپ کو بتاتے چلیں کہ دارالحکومت دہلی میں حالات بدستور نازک ہیں۔ دہلی میں ہر کسی کی سانس لینا چاہے وہ انسان ہو یا دوسرے جانور، کمزور ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ دہلی میں آلودگی اس قدر ہے کہ اب دہلی کی آب و ہوا میں زہر گھل گیا ہے اور لوگوں کو سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے آنکھوں میں جلن، گلے کی خراش، نزلہ و کھانسی، سینے میں کانٹے دار احساس جیسی بیماریاں عام ہوگئی ہیں۔بڑھتی ہوئی آلودگی کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کئی بڑے فیصلے لیے ہیں، جس میں دہلی کے اندر تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، وہیں چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے ریڈ لائٹ آن، وہیکل آف جیسی اسکیم پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر ہو جائے تو اب 13 نومبر سے 20 نومبر تک طاق و جفت کابھی اعلان جاری کر دیا گیا ہے۔ساتھ ہی دہلی کے تمام اسکول بھی تقریباً بند ہو چکے ہیں اور آن لائن کلاسز چل رہے ہیں۔ دہلی حکومت کے وزیر ماحولیات نے دھول بھری مٹی پر وقتاً فوقتاً پانی چھڑکنے کی ہدایات دی ہیں ۔ اس کے بعد تمام سڑکوں پر واٹر کینن گاڑیاں گھوم رہی ہیں۔












