ممبئی، پریس ریلیز،ہمارا سماج:مولانا سید خالد اشرف صاحب پر نشہ مافیا کے بزدلانہ حملے کے خلاف ممبئی کے علماء کرام میں شدید غم و غصہ برقرار ہے۔ ہانڈی والی مسجد ممبئی میں منعقدہ احتجاجی اجلاس میں علماء و ائمۂ مساجد نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب (بانی رضا اکیڈمی) نے کہا کہ دینی شخصیات پر حملہ پوری ملتِ اسلامیہ پر حملہ کے مترادف ہے، حکومت و انتظامیہ کو چاہیے کہ نشہ مافیا کے خلاف فوری سخت کارروائی کرے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔مولانا خلیل الرحمن نوری صاحب نے کہا کہ معاشرے میں نشہ مافیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نہایت تشویشناک ہیں، ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔مولانا انیس اشرفی سیوڑی صاحب نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، ذمہ دار عناصر کی فوری گرفتاری ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔اجلاس کے منتظم شہزادۂ شیرِ ملت مولانا اعجاز احمد کشمیری صاحب نے کہا کہ حضرت سید خالد اشرف صاحب پر حملہ ایک سنگین اور ناقابلِ برداشت واقعہ ہے۔ اگر نشہ مافیا کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو علماء کرام اور عوامِ اہلِ سنت سخت احتجاجی لائحۂ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر حضرت اشرف العلماء مولانا سید حامد اشرف علیہ الرحمہ کی دینی، تعلیمی اور ملی خدمات کا گواہ ہے، جنہوں نے اس شہر اور ملتِ اسلامیہ کے لیے بڑی قربانیاں پیش کیں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج انہی کی اولاد کو نشہ مافیا کے عناصر نے بیچ شاہراہ زد و کوب کیا اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا، جو نہ صرف ایک معزز خاندان بلکہ پوری دینی قیادت اور اہلِ سنت عوام کی توہین کے مترادف ہے۔ ایسے واقعات ہرگز برداشت نہیں کیے جا سکتے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ مولانا عبد الجبار اعظمی ماہر القادری صاحب نے کہا کہ یہ واقعہ اہلِ علم و اہلِ دین کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، حکومت کو چاہیے کہ دینی شخصیات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے نشہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے۔مولانا شرف الدین مصباحی صاحب نے کہا کہ دینی شخصیات پر حملہ معاشرے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک اشارہ ہے، ایسے عناصر کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائی ناگزیر ہے۔علماء کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی سخت تشویش ظاہر کی کہ نشہ مافیا کے حوصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب وہ مذہبی پیشواؤں کو بھی نشانہ بنانے لگے ہیں، جو نہایت خطرناک صورتِ حال ہے۔ انہوں نے حکومت و انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ گرفتار شدہ مجرمین کی ضمانت نہ ہونے دی جائے، مفرور حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، اور مسلم معاشرے میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہ کن ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس موقع پر ظلم کے شکار آلِ رسول حضرت مولانا سید خالد اشرف صاحب نے اپنے متعلقین بالخصوص علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پولیس و انتظامیہ پر مکمل اعتماد ہے، وہ اپنا کام کر رہی ہے۔ آپ حضرات شہر میں امن و امان قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کریں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی طرح کی بدامنی کو روکا جا سکے۔ اجلاس میں شریک اہم شخصیات میں قاری محمد صدیق صاحب، قاری واجد علی صاحب، قاری نیاز احمد رضوی صاحب، قاری گلزار احمد رضوی صاحب، قاری مشتاق صاحب، قاری محمد رفیق صاحب، قاری محمد سعید اشرفی صاحب، مولانا جہانگیر القادری صاحب، مولانا عظمت علی علیمی صاحب، مولانا معراج احمد حبیبی صاحب، مولانا توصیف رضا صاحب، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب، مولانا حاتم طائی صاحب سمیت سیکڑوں کی تعداد میں علماء کرام، بالخصوص ائمۂ مساجد اور ذمہ دارانِ شہر شریک رہے اور سب نے متفقہ طور پر نشہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔












